Monday, December 26, 2011

جنرل کیانی اورپاشاکی برطرفی کافیصلہ

پاکستان پیپلزپارٹی  کی حکومت نے امریکی مرضی کے بعدچیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور انٹرسروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ احمد شجاع پاشا  کو برطرف کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
پاکستانی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق  حکومت  پاکستان فوج کے دونوں سربراہ سے 2 وجوہ سے ناراض ہیں   جن میں  ایک  میمو ایشو  ہے جس پر کیانی اور جنرل شجاع پاشا نے حکومت مخالف بیان جمع کروایا ہے جب کہ ناٹو حملے میں فوجی ہلاکتوں پر دونوں فوجی سربراہان ابھی سخت موقف اختیار کیے ہوئے۔
ذرائع نے مزید کہاکہ امریکی حکام  سے پاکستانی حکومت کی میمو ایشو پر ہونے والی گفتگو میں طے پایا ہے کہ جنرل کیانی اور شجاع پاشا کو برطرف کیا جائے تاکہ دنوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال ہوسکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا پاکستان کو یہ کام کرنے کے بعد مالی مدد بھی فراہم کرئے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا خطے میں وابستہ  مفادات   کے حصول میں جنرل کیانی اور شجاع پاشا کو بڑی رکاوٹ سمجھتاہے۔

ایک حتمی حملہ پاکستان میں القاعدہ کا مکمل خاتمہ کرسکتا ہے،رپورٹ


لندن… ایک سینئر برطانوی اہلکار کاکہنا ہے کہ 2012 میں حتمی حملہ پاکستان میں القاعدہ کی باقی سینئرقیادت کو ختم کرسکتا ہے ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سینئربرطانوی اہلکار نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ القاعدہ کے رہنما پاکستان چھوڑ کر شمالی افریقہ منتقل ہورہے ہیں۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون حملوں میں پاکستان میں القاعدہ کے کئی سینئر رہنما مارے گئے ہیں اب صرف مٹھی بھر اہم شدت پسند زندہ ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے دو نسبتاً سینئر رہنما لیبیا پہنچے ہیں جبکہ باقی بھی اسی جانب جارہے ہیں ،جس کی وجہ سے شمالی افریقہ جہادیوں کا نیا مرکز بن سکتا ہے ۔ برطانوی اہلکا کا کہنا تھا کہ حقانی سمیت مقامی نیٹ ورک نہایت اہم ہیں۔ برطانوی اور امریکی انٹیلی جنس کے مطابق افغانستان میں سوکے قریب القاعدہ اور القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند موجود ہیں جو بین الاقوامی سطح پر خطرہ بن سکتے ہیں

Monday, December 19, 2011

زرداری کتنا عرصہ پاکستان میں قیام کریں گے۔؟

صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی 27 دسمبر کو اپنی مرحوم اہلیہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کے لئے ہے جس کے بعد وہ طویل عرصے کے لئے لندن یا دبئی میں قیام کریں گے۔

یہ دعویٰ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پاکستانی و مغربی حکام کے حوالے سے کیا ہے۔اخبار کے مطابق میمو گیٹ اسکینڈل نے پاکستان کے معاملات میں اس کی طاقت ور فوج کے ہاتھ مضبوط کر دیئے ہیں اور حکومت کے تمام تر مفاہمتی دعوؤں کے باوجود آئندہ ہفتوں میں فوج اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا،فوج اور حکومت کے درمیان کشیدہ ماحول نے صدر آصف علی زرداری کو جلد وطن واپس آنے پر مجبور کیا۔
فوج کے اصرار پر پاکستان کی سپریم کورٹ اس اہم مقدمے کا آغاز کر رہی ہے جس کا مقصد اکتوبر میں سامنے آنے والے متنازعہ میمو میں صدر زرداری کی حکومت کے ملوث ہونے یا نہ ہونے سے متعلق تحقیقات کرنا ہے۔
اخبار کے مطابق اس مقدمے سے پاکستانی فوج اور حکومتی رہنماؤں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے جس سے اسامہ بن لادن اور مہمند ایجنسی پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی امریکی کوششیں مشکلات کا شکار ہوگئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فوج اور سویلین قیادت میں تصادم کی راہ پر کھڑے ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ میمو کے منظر عام پر آتے ہیں فوج نے حکومت سے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ یہ متنازعہ دستاویز امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی نے تیار کیا ہے،حزب اختلاف کے رہنماؤں نےبھی اس مطالبے میں آواز ملاتے ہوئے فوری اقدام کا مطالبہ کیا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ حکومت نے میمو میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پارلیمنٹ، میڈیا، سول سوسائٹی اور عالمی برادری پاکستان میں فوجی آمریت کو برداشت نہیں کرے گی، تاہم گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے جواب میں عدالت سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی فوج کے مورال کو گرانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی ڈرامائی انداز میں روانگی اور اچانک کراچی آمد پر پاکستانی تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سول حکام نے خارجہ اور قومی سلامتی پالیسی کے بعد ملکی معاملات میں بھی فوج کے اثر رسوخ کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔
اخبار کے بقول امریکہ سے کشیدہ تعلقات نے بھی فوجی جنرلوں کو پاکستانی معاملات میں آزادانہ رسائی میں مدد فراہم کی ہے۔اخبار کے مطابق پاکستانی و مغربی حکام نے گزشتہ ہفتے کہہ دیا تھا کہ صدر کی واپسی محترمہ کی برسی میں شرکت کے لئے ہوگی جس کے بعد وہ طویل یا مستقل طور پر لندن یا دبئی منتقل ہو جائیں گے اور اس تاثر کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ زرداری یا ان کے کسی ساتھی نے نہیں بتایا کہ کتنا عرصہ پاکستان میں قیام کریں گے۔