پاکستان کی نوجوان اور شادی شدہ خاتون وزیر خارجہ جن کے حسن کے چرچے بھارتی ایوانوں میں تھرتھری پھیلاتے تھے اب انہوں نے پاکستان ایوان صدر میں بھی تھرتھری پھیلا دی ہے اور پاکستان صدر کے نوجوان بیٹے بلاول ذرداری بھی ان کے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ایک غیر ملکی میگزین کی رپورٹ کے مطابق اس قضیے سے پاکستانی ایوانوں میں سخت کشیدگی اور سرد جنگ شروع ہوچکی ہے مگر حنا ربانی کھر اور بلاول زردداری اپنے معاشقے میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ حنا ربانی کھر کی ایک بیٹی بھی ہے۔ بنگلہ دیشی جریدے بلیٹنز کے مطابق دونوں ایک دوسرے کو تحائف بھیج رہے ہیں اور عیدے اور سالگرہ کے موقع پر ایک دوسرے کو تحائف اور پیغامات بھیج کر تجدید محبت کی گئی ہے۔صدر زرداری کو ایوان صدرمیں حنا ربانی کھر اور بلاول کی ایک رومانوی ملاقات کے دوران اس بات کا علم ہوا کہ دونوں کس حد تک نکل چکے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دونوں کے موبائل فونز کے ریکارڈ سے بھی ثبوت حاصل کئے جو رومانوی گفتگو پر مشتمل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اس پر صدر زرداری نےمشتعل ہو کر حنا ربانی کھر کو ایوان صدر میں طلب کیا اور انہیں اپنے بیٹے سے دور رہنے کو کہا جس پر حنا ربانی کھرنے بھی غصے کا اظہار کیا اور انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ وہ ان کی ذاتی زندگی سے دور رہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر صدر نے فورا ان کے معافی نہ مانگی تو وہ وزارت اور پی پی کو چھوڑ دیں گی۔ جب یہ بات بلاول کے علم میں آئی تو اس نے بھی پی پی اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دی جس پر صدر کو اندازہ ہوا کہ معاملہ کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول زرداری نے رواں برس کے آخر میں پارٹی اور ملک چھوڑنے کا پروگرام بنا رکھا ہے اور اسی عرصے میں حنا ربانی کھر کی جانب سے بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ مین دعوی کیا گیا ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان سرد جنگ گہری ہوتی جارہی ہے اور دوسری جانب حنا ربانی کھر نے بھی اپنے شوہر فیروز گلزار سے طلاق لینے کے لئے بات چیت شروع کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حنا ربانی کھر اپنے شوہر کے دوسری عورتوں سے تعلقات پر دل برداشتہ تھیں اور جیسے ہی بلاول نے انہیں سہارا دیا وہ جھولی میں آ گریں۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں پریمی شادی کر کے سوئیٹزر لینڈ میں مقیم ہونے کا سوچ رہے ہیں۔
Monday, September 24, 2012
Monday, September 17, 2012
سی آئی اے کا موٴثر ترین ہتھیار خواتین
اس وقت سی آئی اے کا موٴثر ترین ہتھیار خواتین ہیں،امریکی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ عہدوں پر40فی صد خواتین براجمان ہیں۔ اسامہ کمپاوٴنڈ کی تلاش اور کامیاب آپریشن کا سہرا ایک اسمارٹ سی آئی اے ایجنٹ ’جن‘ کے سر جاتا ہے۔فیصل آباد سے القاعدہ کے آپریشنل منصوبہ ساز ابو زبیدہ کو تلاش کرنے والی ایک خاتون’جینفرمیتھیو ‘تھی۔نائن الیون کے بعد القاعدہ کے پہلے سینئر کمانڈر کی گرفتاری میں مدد دینے اور القاعدہ کے متعلق پہلی وارننگ جاری کرنے والی بھی خواتین ایجنٹ تھیں۔ سی آئی اے کے القاعدہ کے متعلق یونٹ میں سب ٹارگیٹر خواتین ہیں۔ڈرونز پروگرام کو چلانے والی زیادہ تر خواتین ہیں۔اس وقت سی آئی اے کی ایک حسینہ ہی پاکستانی امور کی سب سے اہم ترین ماہر ہے جس کی خوبصورتی دیکھ کر اوباما نے کہا کہ تم پاکستانی امور کی ماہرلگتی تو نہیں ۔امریکی جریدےمیں شائع’سی آئی اے کے خفیہ ہتھیار‘ کے عنوان سے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے تک مدد دینے والی ایک سی آئی اے خاتون ایجنٹ تھی۔اسامہ بن لادن پر چھاپے کے ایک غیر مجاز کہانی میں انکشاف کیا گیا کہ جن’Jen‘نامی خاتون کئی سال سے اسامہ کا پیچھا کر رہی تھی ۔جن نے نیوی سیلز کو یقین دلایا کہ کمپاوٴنڈ میں اسامہ ہی ہے ۔ حملے سے پہلے اس خاتون ایجنٹ نے سیلز کو بریفنگ دی۔اسامہ آپریشن کی کامیابی کا سہرا اسی جن نامی خاتون کے سر جاتا ہے۔اسے اسامہ کے کمپاوٴنڈ کی تمام تفصیل معلوم تھی کہ کو ن سا دروزاہ باہر یا اندر کی طرف کھلتا ہے۔جریدے کے مطابق جن ایک نئی قسم کی اسمارٹ اور خود اعتماد سی آئی اے خاتون آفیسر ہے ۔اس سے پہلے سی آئی خواتین کو جاسوسی کے مشکل کام سے دور رکھتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔ جن ایک ٹارگٹر ہے ایک تجزیہ کا ر جو ڈرونز فوٹیج،فون کا ل اور دیگرانٹیلی جنس معلومات سے دہشت گردوں ، منشیات اسمگلروں اور اسلحہ ڈیلروں کی پہچان اور ان کے ٹھکانوں کا تعین کرتی ہے۔نائن الیون کے بعد سی آئی اے شدید تنقید کا شکار رہی تاہم اسی مدت کے دوران اس نے جدید خطوط پر جن کی طرح کی ایک نئی تربیت یافتہ فورس تیا ر کی۔جو مکمل سائنسی انداز میں اپنے ہدف تک پہنچتی ہے۔ اسی عرصے کے دوران سی آئی اے کی طرف سے کامیاب آپریشن میں خواتین کا کردار اہم رہا۔ سی آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق،14ٹارگیٹرکی اکثریت خواتین ہی ہیں۔سی آئی اے کا یونٹ ایلک اسٹیشن کو القاعدہ کی تلاش میں وقف کیا گیا اس یونٹ نے90کی دہائی میں خواتین تجزیہ کاروں کو بھرتی کیا۔ اور انہیں خصوصی تربیت دی گئی۔اس یونٹ کے پہلے سربراہ مائیک اسکیئور کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے1999میں اپنا عہدہ چھوڑا تو اس وقت اس یونٹ کی تمام14ٹارگیٹر خواتین ہی تھیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد القاعدہ کے پہلے اعلی عہدے دار کی گرفتاری میں انہیں خواتین کا کردار تھا۔حالیہ تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور سی آئی اے ٹیم کی سربراہ جینفر میتھیو تھی جس نے فیصل آباد کے ایک سیف ہاوٴس سے القاعدہ کا ایک سینئر آپریشنل منصوبہ ساز ابو زبیدہ کو تلاش کیا ۔افغانستان میں خوست میں سی آئی اے اسٹیشن کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے اس نے2009میں اپنے بچوں کے ساتھ کرسمس کے موقع پر اسکائیپ ویڈیو چیٹ کی ،اسی دوراں جب اس کے بچوں نے اپنے گفٹ کھولے تو انہوں نے کہا کہ’ ممی کیا آپ اپنی گن دکھا سکتی ہیں‘ پھر اس نے ویڈیو پر اپنے بچوں کو پستول اور رائفل دکھائی۔اس کے پانچ دن بعد میتھیو کو ہلاک کردیا گیا جب ایک اردنی ڈاکٹر کو اس کے سی آئی اے کا جاسوسی کا پتہ چلا،ڈاکٹرنے ملاقات میں اپنے ساتھ میتھیو کو بھی بم سیس اڑا دیا۔ اسی طرح سی آئی اے کی ایک سینئر تجزیہ کار گینا بینٹ جس نے 1993میں القاعدہ کے متعلق پہلی وارننگ جاری کی تھی۔2009 کے اوائل میں صدر اوباما نے سی آئی اے آفیسر اور انسداد دہشت گردی کے ماہربروس ریڈل کو افغان جنگ کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی۔ اس نے سی آئی اے ہیڈ کوارٹر لینگلی کا سب سے پہلے دورہ کیا اسے وہاں سب سے نمایاں بات خواتین کی بھاری تعداد لگی،اسے ڈرونز پر بریفنگ دینے والی بھی ایک خاتون تھی اور سب سے حیرانی کا پہلو کہ ڈرون کے خفیہ پروگرام کو چلانے والی زیادہ ترخواتین ہی ہیں۔پاک افغان پر نئی امریکی حکمت عملی کے وائٹ ہاوٴس کے اعلان سے قبل اوباما نے ریڈل کو اس کا شکریہ ادا کرنے لئے اسے اوول آفس پر دعوت دی۔ دعوت میں شامل ریڈل کی ٹیم میں وزارت خارجہ سے افغان امور کی ماہر اور سی آئی اے سے پاکستان امور کی ماہر خاتون تھی۔ ریڈل نے اوباما سے اس کا تعارف یو ں کرایا کہ اس سے بہترین پاکستانی امور پر ماہر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔اوباما نے اونچی ہیل پہنی سی آئی اے آفیسر کودیکھ کر تفریحی انداز میں کہا کہ تم پاکستانی امور کی ماہر دکھائی تو نہیں دیتی۔
Wednesday, September 5, 2012
دہشتگردوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی سازش' امیگریشن حکام میں کھلبلی
وقت نيوز
بڑے پیمانے پر غیرملکی دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کرانے کی سازش بے نقاب ہو گئی۔ امیگریشن ڈیٹا غائب اور سی سی ٹی وی کیمرے بند کرنے کا انکشاف ہوا، مختلف ممالک سے پاکستان کے جعلی ویزے جاری کئے گئے، ایف آئی اے حکام کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے خلاف عالمی طاقتوں بالخصوص غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی گھناونی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جن کے مطابق غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے جال بچھا رہی ہیں۔ جس کیلئے اپنے کارندوں اور دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے پاکستان میں داخل کرایا جا رہا ہے۔ ان خبروں کی بازگشت میں بعض ایسے ثبوت اور حقائق سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس پورے کھیل کو بے نقاب کر دیا ہے۔ این جی اوز اور سفارتی عملے کی آڑ میں خفیہ ایجنٹوں کی پاکستان آمد پرانا قصہ ہے اب امیگریشن اور ایف آئی اے حکام کی ملی بھگت سے بغیر انٹری پاکستان آمد کے واقعات نے اہم حلقوں کو چونکا دیا ہے، وقت نیوز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق جعلی پاکستانی ویزے پر پاکستان آنے والوں کے نام نہ صرف امیگریشن ڈیٹا سے غائب کر دیئے گئے ہیں۔ بلکہ ایئرپورٹ پر لگے سی سی ٹی کیمروں کو بھی دانستہ بند کرکے شناخت چھپانے کی کوشش کی گئی، اسی سال 28مارچ کو 16بنگلہ دیشی باشندوں نے 3اپریل کو پاکستان آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 222کے ذریعے بکنگ کرائی جس کے لیے ٹریول ایجنٹ کو 34263 بنگلہ دیشی ٹکا فی کس کی ادائیگی کی گئی۔ پی آئی اے کی پروازدبئی سے بذریعہ فیصل آباد بہاولپور پہنچی جس میں سوار 5بنگلہ دیشی افراد کی تفصیل اس طرح ہے۔ -1 محمد عرفات (پاسپورٹ نمبرC0069547 ٹکٹ نمبر 2142981965477) -2 جاکر (پاسپورٹ نمبرAC6047867 ٹکٹ نمبر 2142981965494) -3حسین سورور(پاسپورٹ نمبرAA6478070 ٹکٹ نمبر 2142981965478) -4 محمد بلال الدین (پاسپورٹ نمبرAA6544476 ٹکٹ نمبر2142981965475) -5 حسین سہیل (پاسپورٹ نمبر AB3004785 ٹکٹ نمبر 2142981965476) یہ افراد پی آئی اے کی پرواز پی کے 222 کے ذریعے بہاولپور پہنچے مگر ایف آئی اے حکام نے Personal Identity Secure Comparison and evelution system میں کوئی ریکارڈ شامل نہیں کیا ۔ایف آ ئی اے حکام نے نہ صرف ان 5افراد کو امیگریشن کاونٹر پر لیجائے بغیر کلیئر کر دیا بلکہ کسٹمز کلیئرنس ہونے تک ایف آ ئی اے کا اہلکار ان غیرقانونی بنگلہ دیشی افراد کے ساتھ رہا۔ 4 اپریل کو(PISCES) سسٹم میں 75مسافروں کا ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا گیا جن میں یہ 5 افراد شامل نہیں تھے۔ اس انتہائی خطرناک صورتحال کا علم ہونے کے بعد ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشن سے ان افراد کے ویزوں کی تصدیق کروائی گئی۔ جہاں سے 2مئی 2012کو لکھے جانے والے خط نے ایک اور بڑے سکینڈل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ پاکستانی ہائی کمشن نے ان 16بنگلہ دیشیوں کو ویزا جاری نہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ یہ تمام ویزے جعلی ہیں جن دیگر افرادکے ویزے جعلی قرار دیئے گئے ان کے نام معمر الدین، محمدکپیل الدین، محمد ابراہیم، مطبرجاہد، مطبر لٹن او ہائیدل بیپاری، محمد مرسلین اسلام، محمد سیف الرحمن، رپن میہا، روم احمد اورکلیمیہ تھے۔ ان افراد نے تین مختلف گروپوں کے ذریعے پاکستان پہنچنا تھا۔ پہلے گروپ میں پانچ دوسرے گروپ میں تین اور تیسرے گروپ میں نو بنگلہ دیشی افراد شامل تھے۔ بہاولپور پہنچنے والے پانچ افراد پہلے گروپ کے ممبر تھے۔ پاکستان کے جعلی ویزے جاری ہونے کے اس انکشاف نے دفتر خارجہ اور متعدد حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ تحقیقات کا دائرہ جو ں جوں وسیع ہوا انکشافات کی نوعیت بھیانک سے بھیانک تر ہوتی چلی گئی۔ 5بنگلہ دیشی باشندوں کا ڈیٹا (PISCES)سسٹم میں اپ گریڈ نہ ہونے سے بڑھ کر یہ راز بھی کھلا کہ جس وقت یہ افراد امیگریشن کاونٹر کے ایریا میں پہنچے تو بہاولپور ایئرپورٹ کے اس حصے میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند ہوگئے۔ ایئر پورٹ پر نصب یہ کیمرے 6 بجکر ایک منٹ 10سیکنڈ سے لیکر 6 بجکر 2 منٹ 28 سیکنڈ یعنی کل 77سیکنڈ تک بند رہے۔ عجب اتفا ق ہے کہ اسی دوران بہاولپور ایئر پورٹ پر نصب PISCES سسٹم یعنی امیگریشن سسٹم کے کمپیوٹرز بھی بند تھے۔ یہ کمپیوٹر 6 بجکر ایک منٹ 10سیکنڈ پر بند ہوئے اور 4 منٹ 20 سیکنڈ کے وقفے کے بعد6 بجکر 5 منٹ 30 سیکنڈ پر دوبارہ آن ہوئے۔ ملکی تاریخ کے اس اہم ترین سکینڈل نے اعلی حلقوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ نہ صرف جعلی پاکستانی ویزے جاری ہوئے بلکہ امیگریشن اور پھر ایئرپورٹ پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند رہے۔ یہ کہانی بہت کچھ بتانے کیلئے کافی تھی۔ ایف آئی اے حکام نے حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اعلی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔ ایف آ ئی اے کے سب انسپکٹر روف اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر اللہ وسایا کو ابتدائی تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔ مگر سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان پیدا ہو گئے۔ ماضی میں ناپسندیدہ عناصرکو پاکستانی ویزے جاری کئے جانے کی دھول ابھی بیٹھی نہیں کہ یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کہیں بغیر یا جعلی ویزوں پر آنے والے افراد کو روکنے کیلئے دانستہ کوتاہی یا غفلت تو نہیں برتی جا رہی۔ ان 5افراد کی طرح دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کتنے افراد کس کس کی ملی بھگت سے پاکستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ معاملہ رشوت ستانی کا ہے یا کسی کے حکم کی پیروی کا، نقصان ہر دو صورتوں میں ملک ہی کا ہے۔ پاکستان میں مقامی حکام اور نیٹ ورک کی مدد سے داخل ہونیوالے افراد ملکی سالمیت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔ اس نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور سدباب کیلئے ملکی ادارے نہ صرف فکرمند ہیں بلکہ اس کی سرکوبی کیلئے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔دریں اثنا وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے اس سارے معاملے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
Subscribe to:
Comments (Atom)