وقت نيوز
بڑے پیمانے پر غیرملکی دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کرانے کی سازش بے نقاب ہو گئی۔ امیگریشن ڈیٹا غائب اور سی سی ٹی وی کیمرے بند کرنے کا انکشاف ہوا، مختلف ممالک سے پاکستان کے جعلی ویزے جاری کئے گئے، ایف آئی اے حکام کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے خلاف عالمی طاقتوں بالخصوص غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی گھناونی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جن کے مطابق غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے جال بچھا رہی ہیں۔ جس کیلئے اپنے کارندوں اور دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے پاکستان میں داخل کرایا جا رہا ہے۔ ان خبروں کی بازگشت میں بعض ایسے ثبوت اور حقائق سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس پورے کھیل کو بے نقاب کر دیا ہے۔ این جی اوز اور سفارتی عملے کی آڑ میں خفیہ ایجنٹوں کی پاکستان آمد پرانا قصہ ہے اب امیگریشن اور ایف آئی اے حکام کی ملی بھگت سے بغیر انٹری پاکستان آمد کے واقعات نے اہم حلقوں کو چونکا دیا ہے، وقت نیوز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق جعلی پاکستانی ویزے پر پاکستان آنے والوں کے نام نہ صرف امیگریشن ڈیٹا سے غائب کر دیئے گئے ہیں۔ بلکہ ایئرپورٹ پر لگے سی سی ٹی کیمروں کو بھی دانستہ بند کرکے شناخت چھپانے کی کوشش کی گئی، اسی سال 28مارچ کو 16بنگلہ دیشی باشندوں نے 3اپریل کو پاکستان آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 222کے ذریعے بکنگ کرائی جس کے لیے ٹریول ایجنٹ کو 34263 بنگلہ دیشی ٹکا فی کس کی ادائیگی کی گئی۔ پی آئی اے کی پروازدبئی سے بذریعہ فیصل آباد بہاولپور پہنچی جس میں سوار 5بنگلہ دیشی افراد کی تفصیل اس طرح ہے۔ -1 محمد عرفات (پاسپورٹ نمبرC0069547 ٹکٹ نمبر 2142981965477) -2 جاکر (پاسپورٹ نمبرAC6047867 ٹکٹ نمبر 2142981965494) -3حسین سورور(پاسپورٹ نمبرAA6478070 ٹکٹ نمبر 2142981965478) -4 محمد بلال الدین (پاسپورٹ نمبرAA6544476 ٹکٹ نمبر2142981965475) -5 حسین سہیل (پاسپورٹ نمبر AB3004785 ٹکٹ نمبر 2142981965476) یہ افراد پی آئی اے کی پرواز پی کے 222 کے ذریعے بہاولپور پہنچے مگر ایف آئی اے حکام نے Personal Identity Secure Comparison and evelution system میں کوئی ریکارڈ شامل نہیں کیا ۔ایف آ ئی اے حکام نے نہ صرف ان 5افراد کو امیگریشن کاونٹر پر لیجائے بغیر کلیئر کر دیا بلکہ کسٹمز کلیئرنس ہونے تک ایف آ ئی اے کا اہلکار ان غیرقانونی بنگلہ دیشی افراد کے ساتھ رہا۔ 4 اپریل کو(PISCES) سسٹم میں 75مسافروں کا ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا گیا جن میں یہ 5 افراد شامل نہیں تھے۔ اس انتہائی خطرناک صورتحال کا علم ہونے کے بعد ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشن سے ان افراد کے ویزوں کی تصدیق کروائی گئی۔ جہاں سے 2مئی 2012کو لکھے جانے والے خط نے ایک اور بڑے سکینڈل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ پاکستانی ہائی کمشن نے ان 16بنگلہ دیشیوں کو ویزا جاری نہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ یہ تمام ویزے جعلی ہیں جن دیگر افرادکے ویزے جعلی قرار دیئے گئے ان کے نام معمر الدین، محمدکپیل الدین، محمد ابراہیم، مطبرجاہد، مطبر لٹن او ہائیدل بیپاری، محمد مرسلین اسلام، محمد سیف الرحمن، رپن میہا، روم احمد اورکلیمیہ تھے۔ ان افراد نے تین مختلف گروپوں کے ذریعے پاکستان پہنچنا تھا۔ پہلے گروپ میں پانچ دوسرے گروپ میں تین اور تیسرے گروپ میں نو بنگلہ دیشی افراد شامل تھے۔ بہاولپور پہنچنے والے پانچ افراد پہلے گروپ کے ممبر تھے۔ پاکستان کے جعلی ویزے جاری ہونے کے اس انکشاف نے دفتر خارجہ اور متعدد حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ تحقیقات کا دائرہ جو ں جوں وسیع ہوا انکشافات کی نوعیت بھیانک سے بھیانک تر ہوتی چلی گئی۔ 5بنگلہ دیشی باشندوں کا ڈیٹا (PISCES)سسٹم میں اپ گریڈ نہ ہونے سے بڑھ کر یہ راز بھی کھلا کہ جس وقت یہ افراد امیگریشن کاونٹر کے ایریا میں پہنچے تو بہاولپور ایئرپورٹ کے اس حصے میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند ہوگئے۔ ایئر پورٹ پر نصب یہ کیمرے 6 بجکر ایک منٹ 10سیکنڈ سے لیکر 6 بجکر 2 منٹ 28 سیکنڈ یعنی کل 77سیکنڈ تک بند رہے۔ عجب اتفا ق ہے کہ اسی دوران بہاولپور ایئر پورٹ پر نصب PISCES سسٹم یعنی امیگریشن سسٹم کے کمپیوٹرز بھی بند تھے۔ یہ کمپیوٹر 6 بجکر ایک منٹ 10سیکنڈ پر بند ہوئے اور 4 منٹ 20 سیکنڈ کے وقفے کے بعد6 بجکر 5 منٹ 30 سیکنڈ پر دوبارہ آن ہوئے۔ ملکی تاریخ کے اس اہم ترین سکینڈل نے اعلی حلقوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ نہ صرف جعلی پاکستانی ویزے جاری ہوئے بلکہ امیگریشن اور پھر ایئرپورٹ پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند رہے۔ یہ کہانی بہت کچھ بتانے کیلئے کافی تھی۔ ایف آئی اے حکام نے حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اعلی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔ ایف آ ئی اے کے سب انسپکٹر روف اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر اللہ وسایا کو ابتدائی تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔ مگر سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان پیدا ہو گئے۔ ماضی میں ناپسندیدہ عناصرکو پاکستانی ویزے جاری کئے جانے کی دھول ابھی بیٹھی نہیں کہ یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کہیں بغیر یا جعلی ویزوں پر آنے والے افراد کو روکنے کیلئے دانستہ کوتاہی یا غفلت تو نہیں برتی جا رہی۔ ان 5افراد کی طرح دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کتنے افراد کس کس کی ملی بھگت سے پاکستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ معاملہ رشوت ستانی کا ہے یا کسی کے حکم کی پیروی کا، نقصان ہر دو صورتوں میں ملک ہی کا ہے۔ پاکستان میں مقامی حکام اور نیٹ ورک کی مدد سے داخل ہونیوالے افراد ملکی سالمیت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔ اس نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور سدباب کیلئے ملکی ادارے نہ صرف فکرمند ہیں بلکہ اس کی سرکوبی کیلئے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔دریں اثنا وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے اس سارے معاملے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
No comments:
Post a Comment