غیر ممالک میں قائم ہونے والے مقدمات کے ماہر نیب کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ 15/ سال کی قانونی حد پوری ہونے پر سوئس عدالتوں میں موجود کرپشن کے مقدمات ستمبر کے تیسرے ہفتے میں ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں گے اسی دوران ایک ذریعے نے دعوی کیا ہے کہ سوئس حکام سے یقین دہانیاں طلب کرنے کے لئے وزیر قانون فاروق نائیک حال ہی میں خفیہ طور پر سوئٹزرلینڈ گئے تھے کہ اگر مناسب انداز میں سوئس حکام کو ستمبر 2012 کے بعد جب 15/ سال کی پابندی ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد جب خط لکھا جائے گا تو کچھ نہیں ہوگا نائیک سے ایک ٹی وی اینکر نے براہِ راست پوچھا تھا کہ آیا وہ عید کی چھٹیوں میں جنیوا کے دورے پر گئے تھے اور آیا وہ اپنے ساتھ سوئس حکام کو لکھا جانے والا خط ساتھ لے گئے تھے؛ اس پر فاروق نائیک نے انکار نہیں کیا وہ براہِ راست جوابات سے گریز کرتے رہے اور کہا کہ میں کئی مرتبہ ان مقدمات کیلئے جنیوا جا چکا ہوں اور اب مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے جب ان سے مزید اصرار کیا گیا تو انہوں نے کہا عید گزر چکی اس کے بارے میں بات نہ کریں، اب آنے والی عید کی بات کریں جب اینکر نے کہا کہ آنے والی عید قربانی کی ہوگی تو وزیر قانون صرف مسکرائے، لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر قانون کا دورہ سوئس حکام سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کیلئے تھا لیکن وہ کسی سوئس عہدیدار سے براہِ راست ملاقات نہ کرسکے لیکن انہیں وکلا اور مڈل مین پر انحصار کرنا پڑا جس نے سوئس عہدیداروں سے بات کی اور انہیں اس خط کی نقل دکھائی جو شاید پاکستان سوئس حکام کو بھجوائے، لیکن گزشتہ پانچ سال سے غیر ممالک میں ان کرپشن مقدمات کی پیروی کرنے والے نیب کے بیرسٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ سوئس پینل کوڈ کے مطابق مختلف افراد کے خلاف ستمبر 2012 کے بعد مقدمات بحال کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔بیرسٹر اکبر نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں مختلف افراد کے خلاف کمیشن اور کک بیک وصول کرنے کے یہ مقدمات ستمبر 1997 میں قائم کیے گئے تھے آئندہ ماہ ستمبر 2012 میں یہ مقدمات اپنی 15/ سال کی میعاد مکمل کرلیں گے جس سے یہ مقدمات ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں گے متعدد مرتبہ دفتر، گھر کے نمبروں اور موبائل فون پر پیغامات بھیجنے کے باوجود اگرچہ فاروق نائیک سے رابطہ نہ ہوسکا لیکن سوئٹزرلینڈ میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ فاروق نائیک نے وہاں موجود اپنے پاکستانی دوستوں کو اپنے خفیہ دورے کی وجہ بتائی ذرائع کے مطابق فاروق نائیک نے اپنے دورے کے موقع پر یہ اشارہ دیا کہ چند ہفتوں میں سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں سوئس حکام کو خط لکھ دیا جائے گا پیپلز پارٹی مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہی ہے اور اس چکر میں اپنا ایک وزیراعظم بھی گنوا چکی ہے کیونکہ وہ 15/ سال کی مدت مکمل ہونے سے پہلے سوئس حکام کو خط نہیں لکھنا چاہتی پیر کو عدالت میں پیشی کے دوران وزیراعظم پرویز اشرف بھی مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاکہ معاملے کو مزید گھسیٹا جا سکے دورہ چین کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا تاکہ آئندہ سماعت تاخیر سے ہو اور 15/ سال کی مدت بھی پوری ہوجائے کہا جاتا ہے کہ ان مقدمات کو 15/ سال کی پابندی مکمل ہونے تک گھسیٹا جائے کیونکہ مدت مکمل ہونے کے بعد یہ مقدمات ایکسپائر ہوجائینگے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی تصدیق سوئٹزرلینڈ کے کرمنل پروسیجر کوڈ(ضابطہ فوجداری)کے آرٹیکل 97/ اور 98/ کو پڑھنے سے ہوجائے گی یہ آرٹیکل سوئس حکومت کی جانب سے کسی بھی مقدمہ کی پیروی کیلئے رکھی گئی مدت کے متعلق ہیں، تاہم کچھ قانونی ماہرین ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سوئس آرٹیکل 97(3) کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ اگر عدالت کی جانب سے مدت ختم ہونے سے پہلے کئی سزا سنائی گئی ہے تو مقدمات ختم ہونے کی کوئی وقتی حد مقرر نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ تفتیشی مجسٹریٹ ڈینل ڈیوڈ نے جولائی 2003 میں ایک ملزم کو 6/ ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور 12/ ملین ڈالرز تک کی منی لانڈرنگ کی رقم ضبط کرنے کا حکم دیا تھا جو جنیوا کی سرویلنس کمپنی نے بطور وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دور میں ایک ٹھیکے کے عوض دیئے گئے تھے بیرسٹر شہزاد کا کہنا ہے کہ سوئس مجسٹریٹ کی جانب سے سنائی جانے والی سزا تکنیکی بنیادوں پر فی الوقت ملتوی کردی گئی تھی یعنی عائد کیے جانے والے الزامات معمولی نوعیت کے تھے جبکہ جرم بڑی سطح کا تھا لہذا فرد جرم عائد ہی نہیں ہوئی تھی کہ 15/ سال کی مدت کا اطلاق ہوسکے۔
No comments:
Post a Comment