Sunday, November 18, 2012

امریکی مفادات، بلوچستان اور تیسری عالمی جنگ

امریکی مفادات، بلوچستان اور تیسری عالمی جنگ




امریکہ کے اس خطے میں مفادات کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتا جب تک ہم اس معاملے کا تاریخی پس منظر نہ سمجھ لیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جہاں کچھ مسائل ختم ہوئے وہاں کچھ نئے مسائل نے جنم لیا۔ ان میں ایک بہت بڑا مسئلہ امریکی سرمایہ کاروں کے لیے تھا۔ جنگ بندی سے امریکی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
یوں دنیا میں امن کا قیام ان کے لیے زہر قاتل تھا اور ان کی ضرورت تھی کہ مختلف خطوں میں چھوٹے پیمانے پر ممالک کے درمیان کشیدگی قائم کی جائے تاکہ ان اسلحہ ساز کارخانوں کو آرڈر ملتے رہیں جن پر امریکی سرمایہ کاروں کی غیر معمولی سرمایہ کاری ہو چکی تھی۔
انہوں نے اس مسئلے کا حل پہلے سے سوچ رکھا تھا اور اس حل کے لیے وہ نو آبادیات میں آزادی کی تحریکوں کو ہوا دے کر اور ان کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کر کے کئی سال سے زمین ہموار کر رہے تھے چنانچہ جنگ کے بعد پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق یورپی اقوام کو اپنی نوآبادیات (کالونیز) اس طرح خالی کرنے کا امریکی حکم ملا کہ ممالک کو آزاد کرتے ہوئے ان کے درمیان تنازعات کی بنیاد رکھ دی جائے۔ اسی کی ایک مثال تقسیم ہند اور تنازعہ کشمیر ہے جس کی خاطر انگریزوں کو برصغیر چھوڑنا پڑا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی یہاں کے باشندوں کی تحریکوں اور قربانیوں کی مرہون منت تھی وہ خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اگر تنازعہ پیدا کرانا مقصود نہ ہوتا تو انگریز کبھی یہاں سے نہ جاتا خواہ کتنی ہی تحریکیں جاری رہتیں۔
اس مقصد کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں یہاں تک کہ انہوں نے اس نئے ملک کے لیے نام تک خود تخلیق کیا تھا۔ خود ہی سوچئے کہ رحمت الٰہی نامی ایک شخص جو یورپ کا باشندہ تھا وہ یہاں صرف یہ نام لکھوانے کے لیے اور یہ نعرہ لگوانے کے لیے آیا کہ اس نام کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ، اور یہ نام دیتے ہی لوٹ گیا۔ اس کے دل میں پھر کبھی یہاں آن بسنے کی خواہش پیدا نہیں ہوئی یہاں تک کہ اس نے مرنے کے بعد یہاں دفن ہونے کی بھی وصیت تک نہیں کی۔ اس سے اس کے اس وطن کے بارے میں جذبات کا اندازہ ہوتا ہے جس کے نام کا بظاہر وہ خالق تھا۔ قیاس کرنا غلط نہ ہو گا کہ یہ شخص انہی لوگوں کا فرستادہ تھا جن کا مفاد اس علاقے میں باہم متحارب و متصادم ممالک کے قیام سے وابستہ تھا اور جنہوں نے اسے یہ نام دے کر یہاں بھیجا تھا تاکہ آزادی کی تحریک کو جلد از جلد ایک منزل کا تعین دیا جا سکے۔
بہرحال وہی ہوا جو ان کا منصوبہ تھا یعنی برصغیر تقسیم ہوا اور قیام کے فوراً بعد کشمیر تنازعے کے باعث دونوں ممالک متحارب ہو گئے اور امریکی اسلحہ بکنے لگا۔
65ء کی جنگ تک پاکستان کو بنیادی اسلحہ سازی یعنی گولیوں وغیرہ کی تیاری میں بھی خود کفالت نہ تھی اور بہت سا ایمونیشن امریکہ سے آتا تھا۔
اس جنگ میں ایک موقع ایسا آیا کہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں جاتی دکھائی دینے لگی اور پاکستان آرمی کی پیش قدمی سے یہ احتمال پیدا ہو گیا کہ اگر اسے نہ روکا گیا تو ممکن ہے کہ پاکستان یہ تنازعہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے، چنانچہ پاکستان کو امریکہ نے ایمونیشن کی سپلائی روک دی۔
اس صورت حال پر پاکستانی ٹاپ براس کی جانب سے امریکیوں کو ایک نہایت پرلطف لیکن چشم کشا ناٹک دکھایا گیا جس سے ان میں ہڑبڑاہٹ مچ گئی۔
65،ء کی جنگ کے دوران جب امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے ایمونیشن کی سپلائی بند ہو رہی تھی  اعلان  کیا گیا کہ تھر یا اسی نواح میں کسی دوسرے محاذ پر عوام سے رضاکارانہ طور پر فوج کی مدد کے لیے (یعنی ڈپو سے محاذ پر بھیجنے والا سامان لوڈ کرنے کے لیے) ایک ہزار نوجوانوں کی ضرورت ہے۔
عوام نے اس پر غور ہی نہیں کیا کہ کس کام کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ انہیں بس یہ سنائی دیا کہ فوج کو ہندو کے مقابلے کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس وقت تک تو وہ بچے بھی بھرپور جوانی کی عمر میں پہنچ چکے تھے جنہوں نے ہجرت کے وقت اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کو ہندوؤں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترتے دیکھا تھا اور ان مناظر کی یادوں نے انہیں اور ان کے ساتھ پوری قوم کو سترہ سال خون کے آنسو رلایا تھا۔
ایک ہزار رضاکاروں کے اعلان کے جواب میں پچاس ہزار افراد جوش انتقام میں نعرے مارتے ہوئے لاٹھیاں کلہاڑیاں چھریاں خنجر لہراتے ہوئے پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ انہیں سنبھالنا دشوار ہو گیا۔ وہ سب محاذ پر جانے کے لیے دیوانے ہوئے جا رہے تھے۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی تھی کہ پاکستان اس وقت اگر تنازعہ کشمیر ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا تو ایمونیشن کی کمی اس کا راستہ روک نہیں سکتی تھی۔
یہ منظر دیکھ کر ان امریکی سرمایہ کاروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور انہوں نے ایوب خان صاحب کو فوراً معاہدہ تاشقند میں منہ مانگی قیمت پر جنگ بندی کے لیے آمادہ کیا۔ ان کے فیلڈ مارشل ہونے کے claim کو تسلیم کیا گیا۔ انہیں بجلی بنانے کے دو بڑے ڈیم منگلا تربیلہ دیئے گئے۔ بہت بڑی آبادی کو برطانیہ میں آباد ہونے کی سہولت دی گئی۔ اس کے علاوہ انڈر دی ٹیبل اور کیا کچھ دیا گیا، اس کا اندازہ بھٹو صاحب کے بیانات سے ہوتا ہے جن میں وہ کہا کرتے تھے کہ وقت آنے پر بتاؤں گا تاشقند میں کیا ہوا تھا۔! ۔۔۔۔۔۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ پھر وہ وقت کبھی نہیں آیا اور وہ بدستور وزیر خارجہ بنے رہے، یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں ملک دو لخت ہو گیا کیونکہ اقوام متحدہ میں مائک کے سامنے انہوں نے بظاہر جوش میں آ کر وہ تقریر ہی پھاڑ دی جس میں اقوام متحدہ سے جنگ بندی کرانے کی اپیل کی گئی تھی، اور کہا کہ ہم ہزار سال لڑیں گے-
اسی وجہ سے بعد میں نوائے وقت نے سرخی جمائی تھی کہ اُدھر تم اِدھر ہم، اس سرخی میں “تم” سے مراد شیخ مجیب الرحمان تھا جس نے الیکشن میں پیپلز پارٹی سے زیادہ سیٹیں جیتی تھیں۔ (چونکہ سقوط ڈھاکہ آج کے جائزے کا موضوع نہیں لہٰذا اسے آئندہ کسی مضمون کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔)
مختصر یہ کہ پاک بھارت مخاصمت نہ صرف قائم رہی بلکہ اس میں اور اضافہ ہوتا چلا گیا، لیکن دوسری طرف قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ستر کی دھائی میں بحیرہ کیسپیئن کے نیچے تیل کے ایک ہہت بڑے ذخیرے کا انکشاف ہوا اور روس نے صوبہ ترکمانستان میں اسے نکالنے اور اسے بھارت کو بیچنے کی منصوبہ بندی کے تحت افغانستان پر قبضہ کر لیا اور وہاں سڑکیں تعمیر کر کے انفراسٹرکچر تیار کر دیا۔ کہا یہ جا رہا تھا کہ اس کے بعد یہ سامراج بلوچستان یا اس کے کچھ مغربی حصے پر قبضہ کرے گا اور اس طرح نہ صرف ایک بندرگاہ حاصل کرے گا بلکہ
سمندر کے راستے بھارت تک پائپ لائن بھی بچھا لے گا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ بحیرہ کیسپین یعنی تیل کا یہ ذخیرہ ایران کو بھی لگتا ہے چنانچہ اس منصوبے میں ایران کی طرف سے تو کسی تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ ایران کی خواہش قدرتی طور پر یہی تھی کہ وہ خود اس ذخیرے کا تیل بیچے گا، روس کو کیوں بیچنے دے؟
اس وقت امریکی سرمایہ کاروں کو یہ سوجھا کہ کیوں نہ وہ خود ہی اس ذخیرے پر قبضہ کر کے اس کا تیل خود بیچیں۔
امریکیوں نے جب بحیرہ کیسپین کے مشرقی کنارے کے اس ذخیرے پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے ہی زیر اختیار عالمی ادارے آئی ایم ایف کے ذریعے روس کو یکایک دیوالیہ کر کے توڑنے کا منصوبہ بنایا اور پھر افغانستان میں ایک ڈمی حکومت قائم کر کے وہاں سے پاکستان کے راستے تیل کی پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ کیا۔
یہ مراحل جب مکمل ہو گئے اور افغانستان میں ڈمی حکومت بنانے کا مرحلہ آیا تو پھر پہلے تو قبائلی گروہوں کی آویزش اور پھر طالبان کی حکومت کے باعث ڈمی حکومت کے قیام میں ناکامی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو خود ہی تباہ کر کے اس کا الزام افغانستان پر لگاتے ہوئے اس پر قبضہ کر کے منصوبہ مکمل کرنے کا طریقہ سوچا۔
دوسری طرف ایران کو اس تیل کی فروخت سے روکنا بھی ضروری تھا اور یہ تبھی ہو سکتا تھا جب ایران کا پوری طرح محاصرہ کیا جائے چنانچہ اس کے لیے پہلے عراق کو براہ راست ایران سے لڑایا جاتا رہا تاکہ اس کے ذریعے امریکہ کو وہاں براجمان ہونے کا موقع ملے۔ پھر جب یہ طریقہ ناکام ہو گیا تو عراق کو کویت پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا گیا۔ صدام حسین اس ٹریپ میں آ گیا اور پھر عراق پر امریکی تسلط کی راہ ہموار ہو گئی۔
ترکی کی سرحد ایران سے الگ کرنے کے لیے وہاں کرد مملکت کی تحریک کو سپانسر کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی اسے زندہ رکھنے کے لیے یہ کام جاری ہے۔ اسی طرح یہاں بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کو سپانسر کیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف ایران کا محاصرہ مکمل ہو سکے بلکہ پائپ لائن کے راستے پر پاکستان کی اجارہ داری بھی ختم کی جا سکے اور ترکمانستان سے آنے والی پائپ لائن افغانستان اور بلوچستان سے ہوتی ہوئی سمندر میں پہنچے اور پھر سمندر کے اندر ہی اندر بھارت تک پہنچ سکے جو اس تیل کی سب سے بڑی منڈی ہے۔


اس تصویر میں مذکورہ پائپ لائن کا وہ روٹ دکھایا گیا ہےجس پر وہ  پاکستان کو اپنی  مرضی کی شرائط  پر منانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ  ان کا خواب یہ ہے کہ انہیں بلوچستان میں اختیار مل جائے تو وہ اس پائپ لائن کو افغانستان سے سیدھا سمندر کی طرف لے جائیں اور راستے پر پاکستان کی اجارہ داری ختم ہو جائے
اس مقصد کے لیے انہیں تنہا ایٹمی قوت پاکستان سے ٹکرانے کی ہمت تو نہیں ہے البتہ وہ جانتے ہیں کہ اگر عالمی برادری بلوچستان کی علیحدگی کی پرزور حمایتی ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کو قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہو گا۔ اسی حمایت کی ایک موہوم سی امید پر یہ پراپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جغرافیائی بناوٹ ایسی ہے کہ اس پائپ لائن کے لیے پاکستان کے علاوہ اور کوئی گزرگاہ ممکن ہی نہیں ہے چنانچہ وہ پاکستان سے رضامندی حاصل کرنے پر مجبور تھے لیکن پاکستان کا مطالبہ یہ تھا کہ پہلے تنازعہ کشمیر کا فیصلہ ہو اور یہ ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ نہ تو وہ بھارت پر زور ڈال سکتے تھے کہ وہی تو اس تیل کا سب سے بڑا ممکنہ گاہک تھا اور نہ پاکستان پر ڈال سکتے تھے کہ پاکستان کی مرضی کے بغیر یہ پائپ لائن بچھ نہیں سکتی تھی۔ اس لیے ان کی مجبوری یہی تھی کہ اگر پاکستان امدادوں وغیرہ سے رضامند نہ ہو تو اس پر قبضہ کر لیا جائے ورنہ اس سے کچھ علاقہ چھین لیا جائے اور بلوچستان کو چھین لینے کی صورت میں انہیں سب کچھ مل سکتا تھا۔
اس پائپ لائن کے لیے پہلے بھی کئی چالیں چلی گئیں جن میں سے کسی سے تو براہ راست قدرت نے حفاظت کی اور کسی میں ہماری عسکری قیادت کی کھلی آنکھیں کام آ گئیں۔ ان میں سے پاکستان پر قبضہ کرنے کی ایک چال تو ایسی تھی جس سے قدرت نے اس قوم کو محفوظ رکھا۔ اس میں سادہ لوح عمران خان کو مہرہ بنا کر انہیں شہید کر کے ان کی حب الوطنی اور جذبۂ خدمت کی آڑ میں انہیں استعمال کیا جا نا تھا  لیکن اس سازش سے قدرت نے براہ راست حفاظت کی۔۔۔
اس سازش کا ذکر جس میں عمران خان کو مہرہ بنایا جانا تھا اور اس سے قدرت نے براہ راست حفاظت کی، اس کا ذکر قبل ازیں ایک دوسرے آرٹیکل میں عرض کر چکا ہوں جس کا نام تھا، عمران خان ہوشیار (دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے)۔
دوسری چال کا اجمال یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات کی علیحدگی کی تحریک کو سپانسر کیا گیا لیکن اس چال کو قیادت نے اس طرح ناکام کیا کہ ان علاقوں کو ایک صوبہ کا درجہ دے کر باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا دیا۔
ویسے بھی اس چال کی کامیابی غیر یقینی تھی کیونکہ افغانستان اور گلگت کے درمیان وادی چترال واقع ہے اور یہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ ہے۔ مزید یہ کہ یہاں آزادی کی تحریک کے جنم لینے اور اس کے بھڑکنے کے امکانات قطعی نہیں تھے۔ اس لیے ان کی پہلی ترجیح بلوچستان ہی تھی تاکہ ایران کا محاصرہ بھی ہو جائے، پاکستان کی سرحد بھی ایران سے علیحدہ ہو جائے اور پائپ لائن کو بھی راستہ اور بندرگاہ مل جائے۔
اس مقصد کے لیے چند سال قبل بگتی، مری اور مینگل سرداروں کو امریکہ کی طرف سے اعلان آزادی کے لیے پچکارا گیا تھا اور انہیں گریٹر بلوچستان کا لالچ دیا گیا جس میں پاکستانی بلوچستان کے علاوہ ایران اور افغانستان کا بھی کچھ علاقہ شامل کیا جانا تھا۔

اگراس وقت عسکری قیادت چوکنا نہ ہوتی تو بلوچستان میں مشرقی تیمور کی تاریخ دہرائی جا چکی ہوتی۔ یہ سردار بلوچستان کی آزادی کا اعلان کر دیتے۔ امریکہ فوراً اسے تسلیم کر لیتا اور ان سرداروں کی حمایت میں وہاں اپنی فوج داخل کر دیتا۔
لیکن ادھر دفاع مضبوط تھا، بگتی سردار فوج کے ہاتھوں مارا گیا، مینگل پکڑا گیا اور مری فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ یوں اُس وقت یہ امریکی چال ناکام ہوئی چنانچہ اب عالمی حمایت کی ایک موہوم سی امید میں یہ کام دوبارہ نئے انداز میں پراپیگنڈے کے زور پر شروع کیا گیا ہے۔
پاکستان کے پاس اس کے لیے پہلے ہی پیش بندیاں موجود ہیں
بلوچستان کی علیحدگی کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کی پیش بندیاں ہر میدان میں مکمل ہیں اور بظاہر فکر کی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی۔ مثال کے طور پر ایک تو یہ ہے کہ گوادر کی بندرگاہ پر چین بہت بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور بلوچستان پر نیٹو حملہ چین پر حملہ تصور ہو گا۔ اس کے علاوہ ایک آسان اور انتہائی مؤثر سیاسی حل بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ انتظامی آسانی کے جواز پر بلوچستان کے دو صوبے بنا دیئے جائیں. قلات ڈویژن اور اس کے مغربی اضلاع خاران وغیرہ اور مکران ڈویژن  پر مشتمل ایک نیا صوبہ قلات کے نام سے بنا دیا جائے جس کی گورنری خان آف قلات کے سپرد کر دی جائے تواس سے دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ علاقے کی ترقی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اس سے امریکی منصوبے کی یکایک ہوا نکل جائے گی، اس کی بلوچ تحریکوں کے لیے سپانسر شپ ختم ہو جائے گی جس سے علیحدگی پسند بلوچ تحریکیں دم توڑ دیں گی اور عالمی میڈیا کو تمام انسانی حقوق پورے ہوتے دکھائی دینے لگیں گے۔
اس کے علاوہ اسی طرح کی کچھ اور تدابیر بھی ہو سکتی ہیں اور زیر عمل بھی دکھائی دیتی ہیں جن میں سرفہرست یہ ہے کہ مقامی سطح پر دفاع پاکستان کونسل کی سرگرمیوں اور پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعے امریکہ کو عوامی حمایت کا حامل راست پیغام دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف روس چین پاکستان ایران اور ترکی   پر مشتمل ایک بہت بڑے اقتصادی بلاک کا قیام بھی محل نظر ہے جس کے لیے  پاکستانی وزیر خارجہ نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی روس کا طویل دورہ کیا ہے۔ یہ بلاک مستقبل میں ان عالمی سرمایہ کاروں کی اس ممکنہ سپریم گورنمنٹ کے مقابلے پر کھڑا دکھائی دے جس کے لیے وال سٹریٹ تحریکوں سے عملی ابتدا کر دی گئی ہے اور یہ بلاک انہیں کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ (اس ممکنہ ورلڈ سپریم گورنمنٹ کے بارے میں نیو ورلڈ آرڈر، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، گلوبلائزیشن اور اینٹی نیشنلزم کی اصطلاحات پر ایستادہ اس منصوبے کا پوسٹ مارٹم کسی دوسرے مضمون میں ہو گا)
مختصر یہ کہ بلوچستان پر یہ امریکی پراپیگنڈا محض ایک بلبلہ ہے اور اگر وہ اس ذخیرے کے بہت بڑے منافع سے دستبردار نہیں ہوتے تو آخر کار انہیں ایران پر حملے کی طرف ہی آنا پڑے گا تاکہ ایران کی پاکستان کو لگنے والی سرحد کے متصل علاقے پر قبضہ کر کے پانچوں مقاصد حاصل کر لیں یعنی ایران کا محاصرہ، اس کی پاکستان سے علیحدگی، پائپ لائن کا راستہ، وسطی ایشیائی ممالک کو بندرگاہ کی فراہمی اور روس چین پاکستان ایران ترکی اقتصادی بلاک کو غیر متصل کرنا۔
اس حملے کے نتیجے میں ایران پلٹ کر اسرائیل پر حملہ کرے گا۔ یہ حملہ ایٹمی بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ایرانی صدر کا ایک نہایت چونکا دینے والا بیان گزشتہ روز میڈیا پر آیا ہے جس میں انہوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنی قوم کو جلد ہی بڑی خوشخبری دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس تمام منظر نامے کے تناظر میں ہمیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کا وہ بیان بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب ان سے ایران کو ٹیکنالوجی کی معلومات فراہم کرنے کا استفسار کیا جاتا تھا تو انہوں نے قوم کو ٹی وی پر بتایا تھا کہ ہاں انہوں نے ایک بہت اچھے مقصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اب صاف سمجھ میں آ رہا ہے کہ وہ اچھا مقصد کیا تھا۔ اگر انہوں نے اس وقت ایسا نہ کیا ہوتا تو ایران پر امریکی حملہ کب کا ہو گیا ہوتا اور اس خطے میں امریکی مقاصد پورے ہو چکے ہوتے۔
امریکہ کے اعلیٰ سرکاری حلقوں میں بلوچستان کا ذکر خالی از علت نہیں ہے۔ بے شک یہ اچنبھا ضرور ہے کہ انہیں انسانی حقوق کی پامالی بلوچستان میں ہی کیوں دکھائی دیتی ہے، کشمیر اور دنیا کے دیگر علاقوں میں کیوں نہیں دیتی؟حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ دار وہیں کے لوگ یعنی قبیلہ سردار اور ان کی اولادیں ہیں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ دار یہی سردار لوگ اور ان کی اولادیں ہیں ہی اس پامالی پر واویلا مچا رہے ہیں جنہوں نے وہاں کی غالب اکثریت کو اپنا کمی کمین بنا رکھا ہے اور درپردہ انہیں امریکی سپورٹ حاصل ہے۔ امریکہ کو یہ سب کچھ معلوم ہے اور اس کا مقصد یہاں انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہے ورنہ وہ ان سرداروں اور وڈیروں کو سپورٹ نہ کرتا۔
امریکہ ایسا کیوں کر رہا ہے اور اس کے بلوچستان میں کیا مفادات ہیں جن کو ہمارے اکثر ماہرین سمجھ نہیں پا رہے؟ یہ ہمارے آج کے تجزئیے کا موضوع ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اسے تحمل اور بردباری سے مطالعہ فرمائیے گا کہ اس میں بہت سے آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا احتمال ہے۔
مجھے ان پر بیچارے صحافیوں، دانشوروں اور سیاسی ماہرین پر بہت ترس آتا ہے جو معمولی سے لالچ میں اچھل اچھل کر بلوچستان پر امریکی پراپیگنڈے کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ امریکہ کی گڈ بکس میں آ جائیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بلوچستان کے لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملے، ان کے علاقے میں تعلیم عام نہیں ہوئی، سڑکیں نہیں بنیں، صنعتیں نہیں لگیں، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کس نے نہیں ہونے دیا؟ کون وہاں سکول کھولنے کی راہ میں رکاوٹ تھا، کون وہاں سڑکوں صنعتوں کی مخالفت کرتا تھا؟ یاد رکھنا ہو گا کہ یہ صرف تین سردار تھے بگتی مینگل اور مری، جن کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ بلوچستان پیکیج اور رائلٹی کے نام پر جو کچھ ملے صرف ہمیں ملے۔ وہ نہ تو وہاں کی عوام کی خوشحالی کے حق میں تھے اور نہ ہی انہیں اپنے پاؤں پر کھڑے دیکھ سکتے تھے۔ اسی لیے نہ وہ وہاں سکول کھولنا برداشت کرتے تھے اور نہ صنعتی ترقی۔ ماضی میں حکومتوں کو یہ بات قبول تھی کہ بہرحال بیگار کیمپ میں غلاموں کا بٹوارا ہوتا ہی رہتا ہے۔
ان سرداروں کا مطالبہ اب بھی یہی ہے لیکن اب یہ مطالبہ ظاہر ہے کہ پورا کرنا ناممکن ہے کیونکہ اب گوادر جس پر چین کی ایک خطیر سرمایہ کاری ہو چکی ہے، اس کے فعال ہونے کے بعد وہاں انفرا سٹرکچر ریلوے لائن اور سڑکوں کا جال بچھنا اور ترقیاتی کام ہونا ایک مجبوری ہے تاکہ وہ راستے آباد ہو سکیں اور یوں نقل و حمل کے لیے محفوظ بن سکیں۔ ظاہر ہے کہ اگر پاکستان کو چین، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے تجارتی کوریڈور بننا ہے تو اس پورے علاقے کو سہولتوں سے آراستہ، خوشحال اور آباد کرنا ہو گا اور یہی وہ بات ہے جو ان سرداروں کو گوارا نہیں ہے چنانچہ براہمداغ بگتی کا یہ بیان شہ سرخیوں میں ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی اور کوئی خوشحالی پیکیج قبول نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان معاملے کا یہ پہلو امریکی گدھوں (حکمران ڈیموکریٹ پارٹی یعنی گدھے کے انتخابی نشان والوں) کو پہلے سے معلوم ہوتا تو کبھی بلوچستان کا شور نہ مچاتے۔ انہوں نے نادانستگی میں یہ کام اور بھی آسان کر دیا ہے اور اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسی بات کو خود لے کھڑی ہوئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ بلوچستان کو اس کا حق ملنا چاہیے اور وہاں خوشحالی آئے۔ امریکہ کا داؤ نہ صرف الٹ گیا ہے بلکہ اسے لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ چند ٹکوں کے لالچ میں امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے والے بیچاروں پر مجھے ترس کیوں آتا ہے۔ دراصل ان کے ساتھ جوڈو کا ہاتھ ہو گیا ہے۔ جوڈو میں لڑائی کا اصول یہ ہے کہ اگر مخالف گھونسہ مارے تو اس کا گھونسہ پکڑ کر اپنی جانب مزید کھینچو، اس کا توازن بگڑ جائے گا۔ اب امریکی گدھوں کا توازن بگڑ گیا ہے اور ساتھ ہی ان گدھوں سے محبت رکھنے والوں کا بھی کہ بہرحال ان کے اس طرح اچھل  اچھل کر شور مچانے کی وجہ سے وہ اِدھر والوں کی نگاہ میں آ گئے ہیں۔

اب اگر ایران پر امریکہ یا اسرائیل سے حملہ ہوتا ہے تو ایران کی طرف سے جواب میں اسرائیل ہدف بنے گا کیونکہ امریکہ بظاہر رسائی سے باہر ہے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکی سرمایہ کاروں کی جڑیں اسرائیل میں ہیں۔ تب پھر ان کے پاس اسے مقدس صلیبی لڑائی بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا جس کا سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کو شہید کیا جائے۔ اس سے اسلامی جہادی طبقہ بھی اسی طرف چل دے گا اور یوں انہیں افغانستان میں قدم جمانے کا موقع مل جائے گا۔

میں سمجھتا ہوں اس کے علاوہ ان کے پاس اور سب راستے بند ہیں لیکن اس مقدس لڑائی کی طرف آنے سے وہ اس لیے خوفزدہ ہیں کہ اس سے تیسری عالمی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس سے دنیا بھی تباہ ہو سکتی ہے۔
وہ نہ اس تیل کے ذخیرے سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس وقت تک عالمی جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں جب تک انہیں کرہ ارض سے باہر خلا میں چاند پر یا کسی سیارے پر محفوظ ٹھکانہ میسر نہ آ جائے۔ یاد رہے کہ خلائی اسٹیشن اب محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ گزشتہ برس چین نے ایک انوکھا تجربہ کیا تھا اور اس نے اپنا ہی ایک خلائی سیارہ خلا میں چھوڑا اور پھر اس کا نشانہ لے کر ایک میزائل چھوڑا جس نے اس سیارے کو خلا میں ہی تباہ کر کے ان سب کو یہ سمجھا دیا تھا کہ اگر کوئی خبیث اس دنیا کو تباہ کرتے ہوئے کچھ عرصہ کے لیے خلا میں پناہ گاہ بنائے گا تو وہاں بھی محفوظ نہیں ہو گا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امریکی امراء نے اس چینی تجربے کے بعد کس قدر شدید واویلا مچایا تھا۔
خلاصۂ کلام یہ کہ بلوچستان مشرقی تیمور کی طرح تر نوالہ نہیں ہے۔ انہیں یا تو Safe Exit کے نام پر تیل کے اس ذخیرے سے ہاتھ دھونا ہوں گے یا اس خطے سے دور کہیں ایک مذہبی جنگ کی بھٹی دہکانا پڑے گی۔ کوئی تیسرا راستہ بظاہر دکھائی نہیں دے رہا، تاہم دونوں صورتوں پاکستان کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

Monday, September 24, 2012

بلاول زرداری اور 2 بچوں کی ماں پاکستانی وزیرخارجہ کے معاشقے پر صدر زرداری پریشان



پاکستان کی نوجوان اور شادی شدہ خاتون وزیر خارجہ جن کے حسن کے چرچے بھارتی ایوانوں میں تھرتھری پھیلاتے تھے اب انہوں نے پاکستان ایوان صدر میں بھی تھرتھری پھیلا دی ہے اور پاکستان صدر کے نوجوان بیٹے بلاول ذرداری بھی ان کے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ایک غیر ملکی میگزین کی  رپورٹ کے مطابق اس قضیے سے پاکستانی ایوانوں میں سخت کشیدگی اور سرد جنگ شروع ہوچکی ہے مگر حنا ربانی کھر اور بلاول زردداری اپنے معاشقے میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ حنا ربانی کھر کی ایک بیٹی بھی ہے۔  بنگلہ دیشی جریدے بلیٹنز کے مطابق دونوں ایک دوسرے کو تحائف بھیج رہے ہیں اور عیدے اور سالگرہ کے موقع پر ایک دوسرے کو تحائف اور پیغامات بھیج کر تجدید محبت کی گئی ہے۔صدر زرداری کو ایوان صدرمیں حنا ربانی کھر اور بلاول کی ایک رومانوی ملاقات کے دوران اس بات کا علم ہوا کہ دونوں کس حد تک نکل چکے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دونوں کے موبائل فونز کے ریکارڈ سے بھی ثبوت حاصل کئے جو رومانوی گفتگو پر مشتمل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اس پر صدر زرداری نےمشتعل ہو کر حنا ربانی کھر کو ایوان صدر میں طلب کیا اور انہیں اپنے بیٹے سے دور رہنے کو کہا جس پر حنا ربانی کھرنے بھی غصے کا اظہار کیا اور انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ وہ ان کی ذاتی زندگی سے دور رہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر صدر نے فورا ان کے معافی نہ مانگی تو وہ  وزارت اور پی پی کو چھوڑ دیں گی۔ جب یہ بات بلاول کے علم میں آئی تو اس نے بھی پی پی اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دی جس پر صدر کو اندازہ ہوا کہ معاملہ کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول زرداری نے رواں برس کے آخر میں  پارٹی اور ملک چھوڑنے کا پروگرام بنا رکھا ہے اور اسی عرصے میں حنا ربانی کھر کی جانب سے بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ مین دعوی کیا گیا ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان سرد جنگ گہری ہوتی جارہی ہے اور دوسری جانب حنا ربانی کھر نے بھی اپنے شوہر فیروز گلزار سے طلاق لینے کے لئے بات چیت شروع کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حنا ربانی کھر اپنے شوہر کے دوسری عورتوں سے تعلقات پر دل برداشتہ تھیں اور جیسے ہی بلاول نے انہیں سہارا دیا وہ جھولی میں آ گریں۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں پریمی شادی کر کے سوئیٹزر لینڈ میں مقیم ہونے کا سوچ رہے ہیں۔

Monday, September 17, 2012

سی آئی اے کا موٴثر ترین ہتھیار خواتین


اس وقت سی آئی اے کا موٴثر ترین ہتھیار خواتین ہیں،امریکی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ عہدوں پر40فی صد خواتین براجمان ہیں۔ اسامہ کمپاوٴنڈ کی تلاش اور کامیاب آپریشن کا سہرا ایک اسمارٹ سی آئی اے ایجنٹ ’جن‘ کے سر جاتا ہے۔فیصل آباد سے القاعدہ کے آپریشنل منصوبہ ساز ابو زبیدہ کو تلاش کرنے والی ایک خاتون’جینفرمیتھیو ‘تھی۔نائن الیون کے بعد القاعدہ کے پہلے سینئر کمانڈر کی گرفتاری میں مدد دینے اور القاعدہ کے متعلق پہلی وارننگ جاری کرنے والی بھی خواتین ایجنٹ تھیں۔ سی آئی اے کے القاعدہ کے متعلق یونٹ میں سب ٹارگیٹر خواتین ہیں۔ڈرونز پروگرام کو چلانے والی زیادہ تر خواتین ہیں۔اس وقت سی آئی اے کی ایک حسینہ ہی پاکستانی امور کی سب سے اہم ترین ماہر ہے جس کی خوبصورتی دیکھ کر اوباما نے کہا کہ تم پاکستانی امور کی ماہرلگتی تو نہیں ۔امریکی جریدےمیں شائع’سی آئی اے کے خفیہ ہتھیار‘ کے عنوان سے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے تک مدد دینے والی ایک سی آئی اے خاتون ایجنٹ تھی۔اسامہ بن لادن پر چھاپے کے ایک غیر مجاز کہانی میں انکشاف کیا گیا کہ جن’Jen‘نامی خاتون کئی سال سے اسامہ کا پیچھا کر رہی تھی ۔جن نے نیوی سیلز کو یقین دلایا کہ کمپاوٴنڈ میں اسامہ ہی ہے ۔ حملے سے پہلے اس خاتون ایجنٹ نے سیلز کو بریفنگ دی۔اسامہ آپریشن کی کامیابی کا سہرا اسی جن نامی خاتون کے سر جاتا ہے۔اسے اسامہ کے کمپاوٴنڈ کی تمام تفصیل معلوم تھی کہ کو ن سا دروزاہ باہر یا اندر کی طرف کھلتا ہے۔جریدے کے مطابق جن ایک نئی قسم کی اسمارٹ اور خود اعتماد سی آئی اے خاتون آفیسر ہے ۔اس سے پہلے سی آئی خواتین کو جاسوسی کے مشکل کام سے دور رکھتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔ جن ایک ٹارگٹر ہے ایک تجزیہ کا ر جو ڈرونز فوٹیج،فون کا ل اور دیگرانٹیلی جنس معلومات سے دہشت گردوں ، منشیات اسمگلروں اور اسلحہ ڈیلروں کی پہچان اور ان کے ٹھکانوں کا تعین کرتی ہے۔نائن الیون کے بعد سی آئی اے شدید تنقید کا شکار رہی تاہم اسی مدت کے دوران اس نے جدید خطوط پر جن کی طرح کی ایک نئی تربیت یافتہ فورس تیا ر کی۔جو مکمل سائنسی انداز میں اپنے ہدف تک پہنچتی ہے۔ اسی عرصے کے دوران سی آئی اے کی طرف سے کامیاب آپریشن میں خواتین کا کردار اہم رہا۔ سی آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق،14ٹارگیٹرکی اکثریت خواتین ہی ہیں۔سی آئی اے کا یونٹ ایلک اسٹیشن کو القاعدہ کی تلاش میں وقف کیا گیا اس یونٹ نے90کی دہائی میں خواتین تجزیہ کاروں کو بھرتی کیا۔ اور انہیں خصوصی تربیت دی گئی۔اس یونٹ کے پہلے سربراہ مائیک اسکیئور کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے1999میں اپنا عہدہ چھوڑا تو اس وقت اس یونٹ کی تمام14ٹارگیٹر خواتین ہی تھیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد القاعدہ کے پہلے اعلی عہدے دار کی گرفتاری میں انہیں خواتین کا کردار تھا۔حالیہ تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور   سی آئی اے ٹیم کی سربراہ جینفر میتھیو تھی جس نے فیصل آباد کے ایک سیف ہاوٴس سے القاعدہ کا ایک سینئر آپریشنل منصوبہ ساز ابو زبیدہ کو تلاش کیا ۔افغانستان میں خوست میں سی آئی اے اسٹیشن کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے اس نے2009میں اپنے بچوں کے ساتھ کرسمس کے موقع پر اسکائیپ ویڈیو چیٹ کی ،اسی دوراں جب اس کے بچوں نے اپنے گفٹ کھولے تو انہوں نے کہا کہ’ ممی کیا آپ اپنی گن دکھا سکتی ہیں‘ پھر اس نے ویڈیو پر اپنے بچوں کو پستول اور رائفل دکھائی۔اس کے پانچ دن بعد میتھیو کو ہلاک کردیا گیا جب ایک اردنی ڈاکٹر کو اس کے سی آئی اے کا جاسوسی کا پتہ چلا،ڈاکٹرنے ملاقات میں اپنے ساتھ میتھیو کو بھی بم سیس اڑا دیا۔ اسی طرح سی آئی اے کی ایک سینئر تجزیہ کار گینا بینٹ جس نے 1993میں القاعدہ کے متعلق پہلی وارننگ جاری کی تھی۔2009 کے اوائل میں صدر اوباما نے سی آئی اے آفیسر اور انسداد دہشت گردی کے ماہربروس ریڈل کو افغان جنگ کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی۔ اس نے سی آئی اے ہیڈ کوارٹر لینگلی کا سب سے پہلے دورہ کیا اسے وہاں سب سے نمایاں بات خواتین کی بھاری تعداد لگی،اسے ڈرونز پر بریفنگ دینے والی بھی ایک خاتون تھی اور سب سے حیرانی کا پہلو کہ ڈرون کے خفیہ پروگرام کو چلانے والی زیادہ ترخواتین ہی ہیں۔پاک افغان پر نئی امریکی حکمت عملی کے وائٹ ہاوٴس کے اعلان سے قبل اوباما نے ریڈل کو اس کا شکریہ ادا کرنے لئے اسے اوول آفس پر دعوت دی۔ دعوت میں شامل ریڈل کی ٹیم میں وزارت خارجہ سے افغان امور کی ماہر اور سی آئی اے سے پاکستان امور کی ماہر خاتون تھی۔ ریڈل نے اوباما سے اس کا تعارف یو ں کرایا کہ اس سے بہترین پاکستانی امور پر ماہر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔اوباما نے اونچی ہیل پہنی سی آئی اے آفیسر کودیکھ کر تفریحی انداز میں کہا کہ تم پاکستانی امور کی ماہر دکھائی تو نہیں دیتی۔

Wednesday, September 5, 2012

دہشتگردوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی سازش' امیگریشن حکام میں کھلبلی

وقت نيوز

بڑے پیمانے پر غیرملکی دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کرانے کی سازش بے نقاب ہو گئی۔ امیگریشن ڈیٹا غائب اور سی سی ٹی وی کیمرے بند کرنے کا انکشاف ہوا، مختلف ممالک سے پاکستان کے جعلی ویزے جاری کئے گئے، ایف آئی اے حکام کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے خلاف عالمی طاقتوں بالخصوص غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی گھناونی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جن کے مطابق غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے جال بچھا رہی ہیں۔ جس کیلئے اپنے کارندوں اور دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے پاکستان میں داخل کرایا جا رہا ہے۔ ان خبروں کی بازگشت میں بعض ایسے ثبوت اور حقائق سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس پورے کھیل کو بے نقاب کر دیا ہے۔ این جی اوز اور سفارتی عملے کی آڑ میں خفیہ ایجنٹوں کی پاکستان آمد پرانا قصہ ہے اب امیگریشن اور ایف آئی اے حکام کی ملی بھگت سے بغیر انٹری پاکستان آمد کے واقعات نے اہم حلقوں کو چونکا دیا ہے، وقت نیوز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق جعلی پاکستانی ویزے پر پاکستان آنے والوں کے نام نہ صرف امیگریشن ڈیٹا سے غائب کر دیئے گئے ہیں۔ بلکہ ایئرپورٹ پر لگے سی سی ٹی کیمروں کو بھی دانستہ بند کرکے شناخت چھپانے کی کوشش کی گئی، اسی سال 28مارچ کو 16بنگلہ دیشی باشندوں نے 3اپریل کو پاکستان آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 222کے ذریعے بکنگ کرائی جس کے لیے ٹریول ایجنٹ کو 34263 بنگلہ دیشی ٹکا فی کس کی ادائیگی کی گئی۔ پی آئی اے کی پروازدبئی سے بذریعہ فیصل آباد بہاولپور پہنچی جس میں سوار 5بنگلہ دیشی افراد کی تفصیل اس طرح ہے۔ -1 محمد عرفات (پاسپورٹ نمبرC0069547 ٹکٹ نمبر 2142981965477) -2 جاکر (پاسپورٹ نمبرAC6047867 ٹکٹ نمبر 2142981965494) -3حسین سورور(پاسپورٹ نمبرAA6478070 ٹکٹ نمبر 2142981965478) -4 محمد بلال الدین (پاسپورٹ نمبرAA6544476 ٹکٹ نمبر2142981965475) -5 حسین سہیل (پاسپورٹ نمبر AB3004785 ٹکٹ نمبر 2142981965476) یہ افراد پی آئی اے کی پرواز پی کے 222 کے ذریعے بہاولپور پہنچے مگر ایف آئی اے حکام نے Personal Identity Secure Comparison and evelution system میں کوئی ریکارڈ شامل نہیں کیا ۔ایف آ ئی اے حکام نے نہ صرف ان 5افراد کو امیگریشن کاونٹر پر لیجائے بغیر کلیئر کر دیا بلکہ کسٹمز کلیئرنس ہونے تک ایف آ ئی اے کا اہلکار ان غیرقانونی بنگلہ دیشی افراد کے ساتھ رہا۔ 4 اپریل کو(PISCES) سسٹم میں 75مسافروں کا ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا گیا جن میں یہ 5 افراد شامل نہیں تھے۔ اس انتہائی خطرناک صورتحال کا علم ہونے کے بعد ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشن سے ان افراد کے ویزوں کی تصدیق کروائی گئی۔ جہاں سے 2مئی 2012کو لکھے جانے والے خط نے ایک اور بڑے سکینڈل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ پاکستانی ہائی کمشن نے ان 16بنگلہ دیشیوں کو ویزا جاری نہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ یہ تمام ویزے جعلی ہیں جن دیگر افرادکے ویزے جعلی قرار دیئے گئے ان کے نام معمر الدین، محمدکپیل الدین، محمد ابراہیم، مطبرجاہد، مطبر لٹن او ہائیدل بیپاری، محمد مرسلین اسلام، محمد سیف الرحمن، رپن میہا، روم احمد اورکلیمیہ تھے۔ ان افراد نے تین مختلف گروپوں کے ذریعے پاکستان پہنچنا تھا۔ پہلے گروپ میں پانچ دوسرے گروپ میں تین اور تیسرے گروپ میں نو بنگلہ دیشی افراد شامل تھے۔ بہاولپور پہنچنے والے پانچ افراد پہلے گروپ کے ممبر تھے۔ پاکستان کے جعلی ویزے جاری ہونے کے اس انکشاف نے دفتر خارجہ اور متعدد حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ تحقیقات کا دائرہ جو ں جوں وسیع ہوا انکشافات کی نوعیت بھیانک سے بھیانک تر ہوتی چلی گئی۔ 5بنگلہ دیشی باشندوں کا ڈیٹا (PISCES)سسٹم میں اپ گریڈ نہ ہونے سے بڑھ کر یہ راز بھی کھلا کہ جس وقت یہ افراد امیگریشن کاونٹر کے ایریا میں پہنچے تو بہاولپور ایئرپورٹ کے اس حصے میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند ہوگئے۔ ایئر پورٹ پر نصب یہ کیمرے 6 بجکر ایک منٹ 10سیکنڈ سے لیکر 6 بجکر 2 منٹ 28 سیکنڈ یعنی کل 77سیکنڈ تک بند رہے۔ عجب اتفا ق ہے کہ اسی دوران بہاولپور ایئر پورٹ پر نصب PISCES سسٹم یعنی امیگریشن سسٹم کے کمپیوٹرز بھی بند تھے۔ یہ کمپیوٹر 6 بجکر ایک منٹ 10سیکنڈ پر بند ہوئے اور 4 منٹ 20 سیکنڈ کے وقفے کے بعد6 بجکر 5 منٹ 30 سیکنڈ پر دوبارہ آن ہوئے۔ ملکی تاریخ کے اس اہم ترین سکینڈل نے اعلی حلقوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ نہ صرف جعلی پاکستانی ویزے جاری ہوئے بلکہ امیگریشن اور پھر ایئرپورٹ پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند رہے۔ یہ کہانی بہت کچھ بتانے کیلئے کافی تھی۔ ایف آئی اے حکام نے حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اعلی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔ ایف آ ئی اے کے سب انسپکٹر روف اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر اللہ وسایا کو ابتدائی تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔ مگر سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان پیدا ہو گئے۔ ماضی میں ناپسندیدہ عناصرکو پاکستانی ویزے جاری کئے جانے کی دھول ابھی بیٹھی نہیں کہ یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کہیں بغیر یا جعلی ویزوں پر آنے والے افراد کو روکنے کیلئے دانستہ کوتاہی یا غفلت تو نہیں برتی جا رہی۔ ان 5افراد کی طرح دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کتنے افراد کس کس کی ملی بھگت سے پاکستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ معاملہ رشوت ستانی کا ہے یا کسی کے حکم کی پیروی کا، نقصان ہر دو صورتوں میں ملک ہی کا ہے۔ پاکستان میں مقامی حکام اور نیٹ ورک کی مدد سے داخل ہونیوالے افراد ملکی سالمیت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔ اس نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور سدباب کیلئے ملکی ادارے نہ صرف فکرمند ہیں بلکہ اس کی سرکوبی کیلئے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔دریں اثنا وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے اس سارے معاملے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

Tuesday, August 28, 2012

کرپشن اور زرداری جیت گیا: سوئس مقدمات 25ستمبر کو ہمیشہ کیلئے ختم


غیر ممالک میں قائم ہونے والے مقدمات کے ماہر نیب کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ 15/ سال کی قانونی حد پوری ہونے پر سوئس عدالتوں میں موجود کرپشن کے مقدمات ستمبر کے تیسرے ہفتے میں ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں گے اسی دوران ایک ذریعے نے دعوی کیا ہے کہ سوئس حکام سے یقین دہانیاں طلب کرنے کے لئے وزیر قانون فاروق نائیک حال ہی میں خفیہ طور پر سوئٹزرلینڈ گئے تھے کہ اگر مناسب انداز میں سوئس حکام کو ستمبر 2012 کے بعد جب 15/ سال کی پابندی ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد جب خط لکھا جائے گا تو کچھ نہیں ہوگا نائیک سے ایک ٹی وی اینکر نے براہِ راست پوچھا تھا کہ آیا وہ عید کی چھٹیوں میں جنیوا کے دورے پر گئے تھے اور آیا وہ اپنے ساتھ سوئس حکام کو لکھا جانے والا خط ساتھ لے گئے تھے؛ اس پر فاروق نائیک نے انکار نہیں کیا وہ براہِ راست جوابات سے گریز کرتے رہے اور کہا کہ میں کئی مرتبہ ان مقدمات کیلئے جنیوا جا چکا ہوں اور اب مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے جب ان سے مزید اصرار کیا گیا تو انہوں نے کہا عید گزر چکی اس کے بارے میں بات نہ کریں، اب آنے والی عید کی بات کریں جب اینکر نے کہا کہ آنے والی عید قربانی کی ہوگی تو وزیر قانون صرف مسکرائے، لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر قانون کا دورہ سوئس حکام سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کیلئے تھا لیکن وہ کسی سوئس عہدیدار سے براہِ راست ملاقات نہ کرسکے لیکن انہیں وکلا اور مڈل مین پر انحصار کرنا پڑا جس نے سوئس عہدیداروں سے بات کی اور انہیں اس خط کی نقل دکھائی جو شاید پاکستان سوئس حکام کو بھجوائے، لیکن گزشتہ پانچ سال سے غیر ممالک میں ان کرپشن مقدمات کی پیروی کرنے والے نیب کے بیرسٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ سوئس پینل کوڈ کے مطابق مختلف افراد کے خلاف ستمبر 2012 کے بعد مقدمات بحال کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔بیرسٹر اکبر نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں مختلف افراد کے خلاف کمیشن اور کک بیک وصول کرنے کے یہ مقدمات ستمبر 1997 میں قائم کیے گئے تھے آئندہ ماہ ستمبر 2012 میں یہ مقدمات اپنی 15/ سال کی میعاد مکمل کرلیں گے جس سے یہ مقدمات ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں گے متعدد مرتبہ دفتر، گھر کے نمبروں اور موبائل فون پر پیغامات بھیجنے کے باوجود اگرچہ فاروق نائیک سے رابطہ نہ ہوسکا لیکن سوئٹزرلینڈ میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ فاروق نائیک نے وہاں موجود اپنے پاکستانی دوستوں کو اپنے خفیہ دورے کی وجہ بتائی ذرائع کے مطابق فاروق نائیک نے اپنے دورے کے موقع پر یہ اشارہ دیا کہ چند ہفتوں میں سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں سوئس حکام کو خط لکھ دیا جائے گا پیپلز پارٹی مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہی ہے اور اس چکر میں اپنا ایک وزیراعظم بھی گنوا چکی ہے کیونکہ وہ 15/ سال کی مدت مکمل ہونے سے پہلے سوئس حکام کو خط نہیں لکھنا چاہتی پیر کو عدالت میں پیشی کے دوران وزیراعظم پرویز اشرف بھی مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاکہ معاملے کو مزید گھسیٹا جا سکے دورہ چین کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا تاکہ آئندہ سماعت تاخیر سے ہو اور 15/ سال کی مدت بھی پوری ہوجائے کہا جاتا ہے کہ ان مقدمات کو 15/ سال کی پابندی مکمل ہونے تک گھسیٹا جائے کیونکہ مدت مکمل ہونے کے بعد یہ مقدمات ایکسپائر ہوجائینگے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی تصدیق سوئٹزرلینڈ کے کرمنل پروسیجر کوڈ(ضابطہ فوجداری)کے آرٹیکل 97/ اور 98/ کو پڑھنے سے ہوجائے گی یہ آرٹیکل سوئس حکومت کی جانب سے کسی بھی مقدمہ کی پیروی کیلئے رکھی گئی مدت کے متعلق ہیں، تاہم کچھ قانونی ماہرین ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سوئس آرٹیکل 97(3) کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ اگر عدالت کی جانب سے مدت ختم ہونے سے پہلے کئی سزا سنائی گئی ہے تو مقدمات ختم ہونے کی کوئی وقتی حد مقرر نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ تفتیشی مجسٹریٹ ڈینل ڈیوڈ نے جولائی 2003 میں ایک ملزم کو 6/ ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور 12/ ملین ڈالرز تک کی منی لانڈرنگ کی رقم ضبط کرنے کا حکم دیا تھا جو جنیوا کی سرویلنس کمپنی نے بطور وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دور میں ایک ٹھیکے کے عوض دیئے گئے تھے بیرسٹر شہزاد کا کہنا ہے کہ سوئس مجسٹریٹ کی جانب سے سنائی جانے والی سزا تکنیکی بنیادوں پر فی الوقت ملتوی کردی گئی تھی یعنی عائد کیے جانے والے الزامات معمولی نوعیت کے تھے جبکہ جرم بڑی سطح کا تھا لہذا فرد جرم عائد ہی نہیں ہوئی تھی کہ 15/ سال کی مدت کا اطلاق ہوسکے۔