امریکی مفادات، بلوچستان
اور تیسری عالمی جنگ
امریکہ کے اس خطے میں مفادات کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتا جب تک ہم اس معاملے کا تاریخی پس منظر نہ سمجھ لیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جہاں کچھ مسائل ختم ہوئے وہاں کچھ نئے مسائل نے جنم لیا۔ ان میں ایک بہت بڑا مسئلہ امریکی سرمایہ کاروں کے لیے تھا۔ جنگ بندی سے امریکی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
یوں دنیا میں امن کا قیام ان کے لیے زہر قاتل تھا اور ان کی ضرورت تھی کہ مختلف خطوں میں چھوٹے پیمانے پر ممالک کے درمیان کشیدگی قائم کی جائے تاکہ ان اسلحہ ساز کارخانوں کو آرڈر ملتے رہیں جن پر امریکی سرمایہ کاروں کی غیر معمولی سرمایہ کاری ہو چکی تھی۔
انہوں نے اس مسئلے کا حل پہلے سے سوچ رکھا تھا اور اس حل کے لیے وہ نو آبادیات میں آزادی کی تحریکوں کو ہوا دے کر اور ان کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کر کے کئی سال سے زمین ہموار کر رہے تھے چنانچہ جنگ کے بعد پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق یورپی اقوام کو اپنی نوآبادیات (کالونیز) اس طرح خالی کرنے کا امریکی حکم ملا کہ ممالک کو آزاد کرتے ہوئے ان کے درمیان تنازعات کی بنیاد رکھ دی جائے۔ اسی کی ایک مثال تقسیم ہند اور تنازعہ کشمیر ہے جس کی خاطر انگریزوں کو برصغیر چھوڑنا پڑا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی یہاں کے باشندوں کی تحریکوں اور قربانیوں کی مرہون منت تھی وہ خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اگر تنازعہ پیدا کرانا مقصود نہ ہوتا تو انگریز کبھی یہاں سے نہ جاتا خواہ کتنی ہی تحریکیں جاری رہتیں۔
اس مقصد کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں یہاں تک کہ انہوں نے اس نئے ملک کے لیے نام تک خود تخلیق کیا تھا۔ خود ہی سوچئے کہ رحمت الٰہی نامی ایک شخص جو یورپ کا باشندہ تھا وہ یہاں صرف یہ نام لکھوانے کے لیے اور یہ نعرہ لگوانے کے لیے آیا کہ اس نام کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ، اور یہ نام دیتے ہی لوٹ گیا۔ اس کے دل میں پھر کبھی یہاں آن بسنے کی خواہش پیدا نہیں ہوئی یہاں تک کہ اس نے مرنے کے بعد یہاں دفن ہونے کی بھی وصیت تک نہیں کی۔ اس سے اس کے اس وطن کے بارے میں جذبات کا اندازہ ہوتا ہے جس کے نام کا بظاہر وہ خالق تھا۔ قیاس کرنا غلط نہ ہو گا کہ یہ شخص انہی لوگوں کا فرستادہ تھا جن کا مفاد اس علاقے میں باہم متحارب و متصادم ممالک کے قیام سے وابستہ تھا اور جنہوں نے اسے یہ نام دے کر یہاں بھیجا تھا تاکہ آزادی کی تحریک کو جلد از جلد ایک منزل کا تعین دیا جا سکے۔
بہرحال وہی ہوا جو ان کا منصوبہ تھا یعنی برصغیر تقسیم ہوا اور قیام کے فوراً بعد کشمیر تنازعے کے باعث دونوں ممالک متحارب ہو گئے اور امریکی اسلحہ بکنے لگا۔
65ء کی جنگ تک پاکستان کو بنیادی اسلحہ سازی یعنی گولیوں وغیرہ کی تیاری میں بھی خود کفالت نہ تھی اور بہت سا ایمونیشن امریکہ سے آتا تھا۔
اس جنگ میں ایک موقع ایسا آیا کہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں جاتی دکھائی دینے لگی اور پاکستان آرمی کی پیش قدمی سے یہ احتمال پیدا ہو گیا کہ اگر اسے نہ روکا گیا تو ممکن ہے کہ پاکستان یہ تنازعہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے، چنانچہ پاکستان کو امریکہ نے ایمونیشن کی سپلائی روک دی۔
اس صورت حال پر پاکستانی ٹاپ براس کی جانب سے امریکیوں کو ایک نہایت پرلطف لیکن چشم کشا ناٹک دکھایا گیا جس سے ان میں ہڑبڑاہٹ مچ گئی۔
65،ء کی جنگ کے دوران جب امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے ایمونیشن کی سپلائی بند ہو رہی تھی اعلان کیا گیا کہ تھر یا اسی نواح میں کسی دوسرے محاذ پر عوام سے رضاکارانہ طور پر فوج کی مدد کے لیے (یعنی ڈپو سے محاذ پر بھیجنے والا سامان لوڈ کرنے کے لیے) ایک ہزار نوجوانوں کی ضرورت ہے۔
عوام نے اس پر غور ہی نہیں کیا کہ کس کام کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ انہیں بس یہ سنائی دیا کہ فوج کو ہندو کے مقابلے کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس وقت تک تو وہ بچے بھی بھرپور جوانی کی عمر میں پہنچ چکے تھے جنہوں نے ہجرت کے وقت اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کو ہندوؤں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترتے دیکھا تھا اور ان مناظر کی یادوں نے انہیں اور ان کے ساتھ پوری قوم کو سترہ سال خون کے آنسو رلایا تھا۔
ایک ہزار رضاکاروں کے اعلان کے جواب میں پچاس ہزار افراد جوش انتقام میں نعرے مارتے ہوئے لاٹھیاں کلہاڑیاں چھریاں خنجر لہراتے ہوئے پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ انہیں سنبھالنا دشوار ہو گیا۔ وہ سب محاذ پر جانے کے لیے دیوانے ہوئے جا رہے تھے۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی تھی کہ پاکستان اس وقت اگر تنازعہ کشمیر ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا تو ایمونیشن کی کمی اس کا راستہ روک نہیں سکتی تھی۔
یہ منظر دیکھ کر ان امریکی سرمایہ کاروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور انہوں نے ایوب خان صاحب کو فوراً معاہدہ تاشقند میں منہ مانگی قیمت پر جنگ بندی کے لیے آمادہ کیا۔ ان کے فیلڈ مارشل ہونے کے claim کو تسلیم کیا گیا۔ انہیں بجلی بنانے کے دو بڑے ڈیم منگلا تربیلہ دیئے گئے۔ بہت بڑی آبادی کو برطانیہ میں آباد ہونے کی سہولت دی گئی۔ اس کے علاوہ انڈر دی ٹیبل اور کیا کچھ دیا گیا، اس کا اندازہ بھٹو صاحب کے بیانات سے ہوتا ہے جن میں وہ کہا کرتے تھے کہ وقت آنے پر بتاؤں گا تاشقند میں کیا ہوا تھا۔! ۔۔۔۔۔۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ پھر وہ وقت کبھی نہیں آیا اور وہ بدستور وزیر خارجہ بنے رہے، یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں ملک دو لخت ہو گیا کیونکہ اقوام متحدہ میں مائک کے سامنے انہوں نے بظاہر جوش میں آ کر وہ تقریر ہی پھاڑ دی جس میں اقوام متحدہ سے جنگ بندی کرانے کی اپیل کی گئی تھی، اور کہا کہ ہم ہزار سال لڑیں گے-
اسی وجہ سے بعد میں نوائے وقت نے سرخی جمائی تھی کہ اُدھر تم اِدھر ہم، اس سرخی میں “تم” سے مراد شیخ مجیب الرحمان تھا جس نے الیکشن میں پیپلز پارٹی سے زیادہ سیٹیں جیتی تھیں۔ (چونکہ سقوط ڈھاکہ آج کے جائزے کا موضوع نہیں لہٰذا اسے آئندہ کسی مضمون کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔)
مختصر یہ کہ پاک بھارت مخاصمت نہ صرف قائم رہی بلکہ اس میں اور اضافہ ہوتا چلا گیا، لیکن دوسری طرف قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ستر کی دھائی میں بحیرہ کیسپیئن کے نیچے تیل کے ایک ہہت بڑے ذخیرے کا انکشاف ہوا اور روس نے صوبہ ترکمانستان میں اسے نکالنے اور اسے بھارت کو بیچنے کی منصوبہ بندی کے تحت افغانستان پر قبضہ کر لیا اور وہاں سڑکیں تعمیر کر کے انفراسٹرکچر تیار کر دیا۔ کہا یہ جا رہا تھا کہ اس کے بعد یہ سامراج بلوچستان یا اس کے کچھ مغربی حصے پر قبضہ کرے گا اور اس طرح نہ صرف ایک بندرگاہ حاصل کرے گا بلکہ
سمندر کے راستے بھارت تک پائپ لائن بھی بچھا لے گا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ بحیرہ کیسپین یعنی تیل کا یہ ذخیرہ ایران کو بھی لگتا ہے چنانچہ اس منصوبے میں ایران کی طرف سے تو کسی تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ ایران کی خواہش قدرتی طور پر یہی تھی کہ وہ خود اس ذخیرے کا تیل بیچے گا، روس کو کیوں بیچنے دے؟
اس وقت امریکی سرمایہ کاروں کو یہ سوجھا کہ کیوں نہ وہ خود ہی اس ذخیرے پر قبضہ کر کے اس کا تیل خود بیچیں۔
امریکیوں نے جب بحیرہ کیسپین کے مشرقی کنارے کے اس ذخیرے پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے ہی زیر اختیار عالمی ادارے آئی ایم ایف کے ذریعے روس کو یکایک دیوالیہ کر کے توڑنے کا منصوبہ بنایا اور پھر افغانستان میں ایک ڈمی حکومت قائم کر کے وہاں سے پاکستان کے راستے تیل کی پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ کیا۔
یہ مراحل جب مکمل ہو گئے اور افغانستان میں ڈمی حکومت بنانے کا مرحلہ آیا تو پھر پہلے تو قبائلی گروہوں کی آویزش اور پھر طالبان کی حکومت کے باعث ڈمی حکومت کے قیام میں ناکامی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو خود ہی تباہ کر کے اس کا الزام افغانستان پر لگاتے ہوئے اس پر قبضہ کر کے منصوبہ مکمل کرنے کا طریقہ سوچا۔
دوسری طرف ایران کو اس تیل کی فروخت سے روکنا بھی ضروری تھا اور یہ تبھی ہو سکتا تھا جب ایران کا پوری طرح محاصرہ کیا جائے چنانچہ اس کے لیے پہلے عراق کو براہ راست ایران سے لڑایا جاتا رہا تاکہ اس کے ذریعے امریکہ کو وہاں براجمان ہونے کا موقع ملے۔ پھر جب یہ طریقہ ناکام ہو گیا تو عراق کو کویت پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا گیا۔ صدام حسین اس ٹریپ میں آ گیا اور پھر عراق پر امریکی تسلط کی راہ ہموار ہو گئی۔
ترکی کی سرحد ایران سے الگ کرنے کے لیے وہاں کرد مملکت کی تحریک کو سپانسر کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی اسے زندہ رکھنے کے لیے یہ کام جاری ہے۔ اسی طرح یہاں بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کو سپانسر کیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف ایران کا محاصرہ مکمل ہو سکے بلکہ پائپ لائن کے راستے پر پاکستان کی اجارہ داری بھی ختم کی جا سکے اور ترکمانستان سے آنے والی پائپ لائن افغانستان اور بلوچستان سے ہوتی ہوئی سمندر میں پہنچے اور پھر سمندر کے اندر ہی اندر بھارت تک پہنچ سکے جو اس تیل کی سب سے بڑی منڈی ہے۔
اس تصویر میں مذکورہ پائپ لائن کا وہ روٹ دکھایا گیا ہےجس پر وہ پاکستان کو اپنی مرضی کی شرائط پر منانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ان کا خواب یہ ہے کہ انہیں بلوچستان میں اختیار مل جائے تو وہ اس پائپ لائن کو افغانستان سے سیدھا سمندر کی طرف لے جائیں اور راستے پر پاکستان کی اجارہ داری ختم ہو جائے
اس مقصد کے لیے انہیں تنہا ایٹمی قوت پاکستان سے ٹکرانے کی ہمت تو نہیں ہے البتہ وہ جانتے ہیں کہ اگر عالمی برادری بلوچستان کی علیحدگی کی پرزور حمایتی ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کو قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہو گا۔ اسی حمایت کی ایک موہوم سی امید پر یہ پراپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جغرافیائی بناوٹ ایسی ہے کہ اس پائپ لائن کے لیے پاکستان کے علاوہ اور کوئی گزرگاہ ممکن ہی نہیں ہے چنانچہ وہ پاکستان سے رضامندی حاصل کرنے پر مجبور تھے لیکن پاکستان کا مطالبہ یہ تھا کہ پہلے تنازعہ کشمیر کا فیصلہ ہو اور یہ ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ نہ تو وہ بھارت پر زور ڈال سکتے تھے کہ وہی تو اس تیل کا سب سے بڑا ممکنہ گاہک تھا اور نہ پاکستان پر ڈال سکتے تھے کہ پاکستان کی مرضی کے بغیر یہ پائپ لائن بچھ نہیں سکتی تھی۔ اس لیے ان کی مجبوری یہی تھی کہ اگر پاکستان امدادوں وغیرہ سے رضامند نہ ہو تو اس پر قبضہ کر لیا جائے ورنہ اس سے کچھ علاقہ چھین لیا جائے اور بلوچستان کو چھین لینے کی صورت میں انہیں سب کچھ مل سکتا تھا۔
اس پائپ لائن کے لیے پہلے بھی کئی چالیں چلی گئیں جن میں سے کسی سے تو براہ راست قدرت نے حفاظت کی اور کسی میں ہماری عسکری قیادت کی کھلی آنکھیں کام آ گئیں۔ ان میں سے پاکستان پر قبضہ کرنے کی ایک چال تو ایسی تھی جس سے قدرت نے اس قوم کو محفوظ رکھا۔ اس میں سادہ لوح عمران خان کو مہرہ بنا کر انہیں شہید کر کے ان کی حب الوطنی اور جذبۂ خدمت کی آڑ میں انہیں استعمال کیا جا نا تھا لیکن اس سازش سے قدرت نے براہ راست حفاظت کی۔۔۔
اس سازش کا ذکر جس میں عمران خان کو مہرہ بنایا جانا تھا اور اس سے قدرت نے براہ راست حفاظت کی، اس کا ذکر قبل ازیں ایک دوسرے آرٹیکل میں عرض کر چکا ہوں جس کا نام تھا، عمران خان ہوشیار (دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے)۔
دوسری چال کا اجمال یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات کی علیحدگی کی تحریک کو سپانسر کیا گیا لیکن اس چال کو قیادت نے اس طرح ناکام کیا کہ ان علاقوں کو ایک صوبہ کا درجہ دے کر باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا دیا۔
ویسے بھی اس چال کی کامیابی غیر یقینی تھی کیونکہ افغانستان اور گلگت کے درمیان وادی چترال واقع ہے اور یہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ ہے۔ مزید یہ کہ یہاں آزادی کی تحریک کے جنم لینے اور اس کے بھڑکنے کے امکانات قطعی نہیں تھے۔ اس لیے ان کی پہلی ترجیح بلوچستان ہی تھی تاکہ ایران کا محاصرہ بھی ہو جائے، پاکستان کی سرحد بھی ایران سے علیحدہ ہو جائے اور پائپ لائن کو بھی راستہ اور بندرگاہ مل جائے۔
اس مقصد کے لیے چند سال قبل بگتی، مری اور مینگل سرداروں کو امریکہ کی طرف سے اعلان آزادی کے لیے پچکارا گیا تھا اور انہیں گریٹر بلوچستان کا لالچ دیا گیا جس میں پاکستانی بلوچستان کے علاوہ ایران اور افغانستان کا بھی کچھ علاقہ شامل کیا جانا تھا۔
اگراس وقت عسکری قیادت چوکنا نہ ہوتی تو بلوچستان میں مشرقی تیمور کی تاریخ دہرائی جا چکی ہوتی۔ یہ سردار بلوچستان کی آزادی کا اعلان کر دیتے۔ امریکہ فوراً اسے تسلیم کر لیتا اور ان سرداروں کی حمایت میں وہاں اپنی فوج داخل کر دیتا۔
لیکن ادھر دفاع مضبوط تھا، بگتی سردار فوج کے ہاتھوں مارا گیا، مینگل پکڑا گیا اور مری فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ یوں اُس وقت یہ امریکی چال ناکام ہوئی چنانچہ اب عالمی حمایت کی ایک موہوم سی امید میں یہ کام دوبارہ نئے انداز میں پراپیگنڈے کے زور پر شروع کیا گیا ہے۔
پاکستان کے پاس اس کے لیے پہلے ہی پیش بندیاں موجود ہیں
بلوچستان کی علیحدگی کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کی پیش بندیاں ہر میدان میں مکمل ہیں اور بظاہر فکر کی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی۔ مثال کے طور پر ایک تو یہ ہے کہ گوادر کی بندرگاہ پر چین بہت بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور بلوچستان پر نیٹو حملہ چین پر حملہ تصور ہو گا۔ اس کے علاوہ ایک آسان اور انتہائی مؤثر سیاسی حل بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ انتظامی آسانی کے جواز پر بلوچستان کے دو صوبے بنا دیئے جائیں. قلات ڈویژن اور اس کے مغربی اضلاع خاران وغیرہ اور مکران ڈویژن پر مشتمل ایک نیا صوبہ قلات کے نام سے بنا دیا جائے جس کی گورنری خان آف قلات کے سپرد کر دی جائے تواس سے دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ علاقے کی ترقی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اس سے امریکی منصوبے کی یکایک ہوا نکل جائے گی، اس کی بلوچ تحریکوں کے لیے سپانسر شپ ختم ہو جائے گی جس سے علیحدگی پسند بلوچ تحریکیں دم توڑ دیں گی اور عالمی میڈیا کو تمام انسانی حقوق پورے ہوتے دکھائی دینے لگیں گے۔
اس کے علاوہ اسی طرح کی کچھ اور تدابیر بھی ہو سکتی ہیں اور زیر عمل بھی دکھائی دیتی ہیں جن میں سرفہرست یہ ہے کہ مقامی سطح پر دفاع پاکستان کونسل کی سرگرمیوں اور پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعے امریکہ کو عوامی حمایت کا حامل راست پیغام دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف روس چین پاکستان ایران اور ترکی پر مشتمل ایک بہت بڑے اقتصادی بلاک کا قیام بھی محل نظر ہے جس کے لیے پاکستانی وزیر خارجہ نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی روس کا طویل دورہ کیا ہے۔ یہ بلاک مستقبل میں ان عالمی سرمایہ کاروں کی اس ممکنہ سپریم گورنمنٹ کے مقابلے پر کھڑا دکھائی دے جس کے لیے وال سٹریٹ تحریکوں سے عملی ابتدا کر دی گئی ہے اور یہ بلاک انہیں کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ (اس ممکنہ ورلڈ سپریم گورنمنٹ کے بارے میں نیو ورلڈ آرڈر، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، گلوبلائزیشن اور اینٹی نیشنلزم کی اصطلاحات پر ایستادہ اس منصوبے کا پوسٹ مارٹم کسی دوسرے مضمون میں ہو گا)
مختصر یہ کہ بلوچستان پر یہ امریکی پراپیگنڈا محض ایک بلبلہ ہے اور اگر وہ اس ذخیرے کے بہت بڑے منافع سے دستبردار نہیں ہوتے تو آخر کار انہیں ایران پر حملے کی طرف ہی آنا پڑے گا تاکہ ایران کی پاکستان کو لگنے والی سرحد کے متصل علاقے پر قبضہ کر کے پانچوں مقاصد حاصل کر لیں یعنی ایران کا محاصرہ، اس کی پاکستان سے علیحدگی، پائپ لائن کا راستہ، وسطی ایشیائی ممالک کو بندرگاہ کی فراہمی اور روس چین پاکستان ایران ترکی اقتصادی بلاک کو غیر متصل کرنا۔
اس حملے کے نتیجے میں ایران پلٹ کر اسرائیل پر حملہ کرے گا۔ یہ حملہ ایٹمی بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ایرانی صدر کا ایک نہایت چونکا دینے والا بیان گزشتہ روز میڈیا پر آیا ہے جس میں انہوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنی قوم کو جلد ہی بڑی خوشخبری دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس تمام منظر نامے کے تناظر میں ہمیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کا وہ بیان بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب ان سے ایران کو ٹیکنالوجی کی معلومات فراہم کرنے کا استفسار کیا جاتا تھا تو انہوں نے قوم کو ٹی وی پر بتایا تھا کہ ہاں انہوں نے ایک بہت اچھے مقصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اب صاف سمجھ میں آ رہا ہے کہ وہ اچھا مقصد کیا تھا۔ اگر انہوں نے اس وقت ایسا نہ کیا ہوتا تو ایران پر امریکی حملہ کب کا ہو گیا ہوتا اور اس خطے میں امریکی مقاصد پورے ہو چکے ہوتے۔
امریکہ کے اعلیٰ سرکاری حلقوں میں بلوچستان کا ذکر خالی از علت نہیں ہے۔ بے شک یہ اچنبھا ضرور ہے کہ انہیں انسانی حقوق کی پامالی بلوچستان میں ہی کیوں دکھائی دیتی ہے، کشمیر اور دنیا کے دیگر علاقوں میں کیوں نہیں دیتی؟حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ دار وہیں کے لوگ یعنی قبیلہ سردار اور ان کی اولادیں ہیں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ دار یہی سردار لوگ اور ان کی اولادیں ہیں ہی اس پامالی پر واویلا مچا رہے ہیں جنہوں نے وہاں کی غالب اکثریت کو اپنا کمی کمین بنا رکھا ہے اور درپردہ انہیں امریکی سپورٹ حاصل ہے۔ امریکہ کو یہ سب کچھ معلوم ہے اور اس کا مقصد یہاں انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہے ورنہ وہ ان سرداروں اور وڈیروں کو سپورٹ نہ کرتا۔
امریکہ ایسا کیوں کر رہا ہے اور اس کے بلوچستان میں کیا مفادات ہیں جن کو ہمارے اکثر ماہرین سمجھ نہیں پا رہے؟ یہ ہمارے آج کے تجزئیے کا موضوع ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اسے تحمل اور بردباری سے مطالعہ فرمائیے گا کہ اس میں بہت سے آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا احتمال ہے۔
مجھے ان پر بیچارے صحافیوں، دانشوروں اور سیاسی ماہرین پر بہت ترس آتا ہے جو معمولی سے لالچ میں اچھل اچھل کر بلوچستان پر امریکی پراپیگنڈے کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ امریکہ کی گڈ بکس میں آ جائیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بلوچستان کے لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملے، ان کے علاقے میں تعلیم عام نہیں ہوئی، سڑکیں نہیں بنیں، صنعتیں نہیں لگیں، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کس نے نہیں ہونے دیا؟ کون وہاں سکول کھولنے کی راہ میں رکاوٹ تھا، کون وہاں سڑکوں صنعتوں کی مخالفت کرتا تھا؟ یاد رکھنا ہو گا کہ یہ صرف تین سردار تھے بگتی مینگل اور مری، جن کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ بلوچستان پیکیج اور رائلٹی کے نام پر جو کچھ ملے صرف ہمیں ملے۔ وہ نہ تو وہاں کی عوام کی خوشحالی کے حق میں تھے اور نہ ہی انہیں اپنے پاؤں پر کھڑے دیکھ سکتے تھے۔ اسی لیے نہ وہ وہاں سکول کھولنا برداشت کرتے تھے اور نہ صنعتی ترقی۔ ماضی میں حکومتوں کو یہ بات قبول تھی کہ بہرحال بیگار کیمپ میں غلاموں کا بٹوارا ہوتا ہی رہتا ہے۔
ان سرداروں کا مطالبہ اب بھی یہی ہے لیکن اب یہ مطالبہ ظاہر ہے کہ پورا کرنا ناممکن ہے کیونکہ اب گوادر جس پر چین کی ایک خطیر سرمایہ کاری ہو چکی ہے، اس کے فعال ہونے کے بعد وہاں انفرا سٹرکچر ریلوے لائن اور سڑکوں کا جال بچھنا اور ترقیاتی کام ہونا ایک مجبوری ہے تاکہ وہ راستے آباد ہو سکیں اور یوں نقل و حمل کے لیے محفوظ بن سکیں۔ ظاہر ہے کہ اگر پاکستان کو چین، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے تجارتی کوریڈور بننا ہے تو اس پورے علاقے کو سہولتوں سے آراستہ، خوشحال اور آباد کرنا ہو گا اور یہی وہ بات ہے جو ان سرداروں کو گوارا نہیں ہے چنانچہ براہمداغ بگتی کا یہ بیان شہ سرخیوں میں ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی اور کوئی خوشحالی پیکیج قبول نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان معاملے کا یہ پہلو امریکی گدھوں (حکمران ڈیموکریٹ پارٹی یعنی گدھے کے انتخابی نشان والوں) کو پہلے سے معلوم ہوتا تو کبھی بلوچستان کا شور نہ مچاتے۔ انہوں نے نادانستگی میں یہ کام اور بھی آسان کر دیا ہے اور اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسی بات کو خود لے کھڑی ہوئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ بلوچستان کو اس کا حق ملنا چاہیے اور وہاں خوشحالی آئے۔ امریکہ کا داؤ نہ صرف الٹ گیا ہے بلکہ اسے لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ چند ٹکوں کے لالچ میں امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے والے بیچاروں پر مجھے ترس کیوں آتا ہے۔ دراصل ان کے ساتھ جوڈو کا ہاتھ ہو گیا ہے۔ جوڈو میں لڑائی کا اصول یہ ہے کہ اگر مخالف گھونسہ مارے تو اس کا گھونسہ پکڑ کر اپنی جانب مزید کھینچو، اس کا توازن بگڑ جائے گا۔ اب امریکی گدھوں کا توازن بگڑ گیا ہے اور ساتھ ہی ان گدھوں سے محبت رکھنے والوں کا بھی کہ بہرحال ان کے اس طرح اچھل اچھل کر شور مچانے کی وجہ سے وہ اِدھر والوں کی نگاہ میں آ گئے ہیں۔
اب اگر ایران پر امریکہ یا اسرائیل سے حملہ ہوتا ہے تو ایران کی طرف سے جواب میں اسرائیل ہدف بنے گا کیونکہ امریکہ بظاہر رسائی سے باہر ہے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکی سرمایہ کاروں کی جڑیں اسرائیل میں ہیں۔ تب پھر ان کے پاس اسے مقدس صلیبی لڑائی بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا جس کا سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کو شہید کیا جائے۔ اس سے اسلامی جہادی طبقہ بھی اسی طرف چل دے گا اور یوں انہیں افغانستان میں قدم جمانے کا موقع مل جائے گا۔
میں سمجھتا ہوں اس کے علاوہ ان کے پاس اور سب راستے بند ہیں لیکن اس مقدس لڑائی کی طرف آنے سے وہ اس لیے خوفزدہ ہیں کہ اس سے تیسری عالمی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس سے دنیا بھی تباہ ہو سکتی ہے۔
وہ نہ اس تیل کے ذخیرے سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس وقت تک عالمی جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں جب تک انہیں کرہ ارض سے باہر خلا میں چاند پر یا کسی سیارے پر محفوظ ٹھکانہ میسر نہ آ جائے۔ یاد رہے کہ خلائی اسٹیشن اب محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ گزشتہ برس چین نے ایک انوکھا تجربہ کیا تھا اور اس نے اپنا ہی ایک خلائی سیارہ خلا میں چھوڑا اور پھر اس کا نشانہ لے کر ایک میزائل چھوڑا جس نے اس سیارے کو خلا میں ہی تباہ کر کے ان سب کو یہ سمجھا دیا تھا کہ اگر کوئی خبیث اس دنیا کو تباہ کرتے ہوئے کچھ عرصہ کے لیے خلا میں پناہ گاہ بنائے گا تو وہاں بھی محفوظ نہیں ہو گا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امریکی امراء نے اس چینی تجربے کے بعد کس قدر شدید واویلا مچایا تھا۔
خلاصۂ کلام یہ کہ بلوچستان مشرقی تیمور کی طرح تر نوالہ نہیں ہے۔ انہیں یا تو Safe Exit کے نام پر تیل کے اس ذخیرے سے ہاتھ دھونا ہوں گے یا اس خطے سے دور کہیں ایک مذہبی جنگ کی بھٹی دہکانا پڑے گی۔ کوئی تیسرا راستہ بظاہر دکھائی نہیں دے رہا، تاہم دونوں صورتوں پاکستان کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔















