Sunday, November 18, 2012

امریکی مفادات، بلوچستان اور تیسری عالمی جنگ

امریکی مفادات، بلوچستان اور تیسری عالمی جنگ




امریکہ کے اس خطے میں مفادات کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتا جب تک ہم اس معاملے کا تاریخی پس منظر نہ سمجھ لیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جہاں کچھ مسائل ختم ہوئے وہاں کچھ نئے مسائل نے جنم لیا۔ ان میں ایک بہت بڑا مسئلہ امریکی سرمایہ کاروں کے لیے تھا۔ جنگ بندی سے امریکی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
یوں دنیا میں امن کا قیام ان کے لیے زہر قاتل تھا اور ان کی ضرورت تھی کہ مختلف خطوں میں چھوٹے پیمانے پر ممالک کے درمیان کشیدگی قائم کی جائے تاکہ ان اسلحہ ساز کارخانوں کو آرڈر ملتے رہیں جن پر امریکی سرمایہ کاروں کی غیر معمولی سرمایہ کاری ہو چکی تھی۔
انہوں نے اس مسئلے کا حل پہلے سے سوچ رکھا تھا اور اس حل کے لیے وہ نو آبادیات میں آزادی کی تحریکوں کو ہوا دے کر اور ان کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کر کے کئی سال سے زمین ہموار کر رہے تھے چنانچہ جنگ کے بعد پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق یورپی اقوام کو اپنی نوآبادیات (کالونیز) اس طرح خالی کرنے کا امریکی حکم ملا کہ ممالک کو آزاد کرتے ہوئے ان کے درمیان تنازعات کی بنیاد رکھ دی جائے۔ اسی کی ایک مثال تقسیم ہند اور تنازعہ کشمیر ہے جس کی خاطر انگریزوں کو برصغیر چھوڑنا پڑا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی یہاں کے باشندوں کی تحریکوں اور قربانیوں کی مرہون منت تھی وہ خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اگر تنازعہ پیدا کرانا مقصود نہ ہوتا تو انگریز کبھی یہاں سے نہ جاتا خواہ کتنی ہی تحریکیں جاری رہتیں۔
اس مقصد کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں یہاں تک کہ انہوں نے اس نئے ملک کے لیے نام تک خود تخلیق کیا تھا۔ خود ہی سوچئے کہ رحمت الٰہی نامی ایک شخص جو یورپ کا باشندہ تھا وہ یہاں صرف یہ نام لکھوانے کے لیے اور یہ نعرہ لگوانے کے لیے آیا کہ اس نام کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ، اور یہ نام دیتے ہی لوٹ گیا۔ اس کے دل میں پھر کبھی یہاں آن بسنے کی خواہش پیدا نہیں ہوئی یہاں تک کہ اس نے مرنے کے بعد یہاں دفن ہونے کی بھی وصیت تک نہیں کی۔ اس سے اس کے اس وطن کے بارے میں جذبات کا اندازہ ہوتا ہے جس کے نام کا بظاہر وہ خالق تھا۔ قیاس کرنا غلط نہ ہو گا کہ یہ شخص انہی لوگوں کا فرستادہ تھا جن کا مفاد اس علاقے میں باہم متحارب و متصادم ممالک کے قیام سے وابستہ تھا اور جنہوں نے اسے یہ نام دے کر یہاں بھیجا تھا تاکہ آزادی کی تحریک کو جلد از جلد ایک منزل کا تعین دیا جا سکے۔
بہرحال وہی ہوا جو ان کا منصوبہ تھا یعنی برصغیر تقسیم ہوا اور قیام کے فوراً بعد کشمیر تنازعے کے باعث دونوں ممالک متحارب ہو گئے اور امریکی اسلحہ بکنے لگا۔
65ء کی جنگ تک پاکستان کو بنیادی اسلحہ سازی یعنی گولیوں وغیرہ کی تیاری میں بھی خود کفالت نہ تھی اور بہت سا ایمونیشن امریکہ سے آتا تھا۔
اس جنگ میں ایک موقع ایسا آیا کہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں جاتی دکھائی دینے لگی اور پاکستان آرمی کی پیش قدمی سے یہ احتمال پیدا ہو گیا کہ اگر اسے نہ روکا گیا تو ممکن ہے کہ پاکستان یہ تنازعہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے، چنانچہ پاکستان کو امریکہ نے ایمونیشن کی سپلائی روک دی۔
اس صورت حال پر پاکستانی ٹاپ براس کی جانب سے امریکیوں کو ایک نہایت پرلطف لیکن چشم کشا ناٹک دکھایا گیا جس سے ان میں ہڑبڑاہٹ مچ گئی۔
65،ء کی جنگ کے دوران جب امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے ایمونیشن کی سپلائی بند ہو رہی تھی  اعلان  کیا گیا کہ تھر یا اسی نواح میں کسی دوسرے محاذ پر عوام سے رضاکارانہ طور پر فوج کی مدد کے لیے (یعنی ڈپو سے محاذ پر بھیجنے والا سامان لوڈ کرنے کے لیے) ایک ہزار نوجوانوں کی ضرورت ہے۔
عوام نے اس پر غور ہی نہیں کیا کہ کس کام کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ انہیں بس یہ سنائی دیا کہ فوج کو ہندو کے مقابلے کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس وقت تک تو وہ بچے بھی بھرپور جوانی کی عمر میں پہنچ چکے تھے جنہوں نے ہجرت کے وقت اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کو ہندوؤں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترتے دیکھا تھا اور ان مناظر کی یادوں نے انہیں اور ان کے ساتھ پوری قوم کو سترہ سال خون کے آنسو رلایا تھا۔
ایک ہزار رضاکاروں کے اعلان کے جواب میں پچاس ہزار افراد جوش انتقام میں نعرے مارتے ہوئے لاٹھیاں کلہاڑیاں چھریاں خنجر لہراتے ہوئے پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ انہیں سنبھالنا دشوار ہو گیا۔ وہ سب محاذ پر جانے کے لیے دیوانے ہوئے جا رہے تھے۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی تھی کہ پاکستان اس وقت اگر تنازعہ کشمیر ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا تو ایمونیشن کی کمی اس کا راستہ روک نہیں سکتی تھی۔
یہ منظر دیکھ کر ان امریکی سرمایہ کاروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور انہوں نے ایوب خان صاحب کو فوراً معاہدہ تاشقند میں منہ مانگی قیمت پر جنگ بندی کے لیے آمادہ کیا۔ ان کے فیلڈ مارشل ہونے کے claim کو تسلیم کیا گیا۔ انہیں بجلی بنانے کے دو بڑے ڈیم منگلا تربیلہ دیئے گئے۔ بہت بڑی آبادی کو برطانیہ میں آباد ہونے کی سہولت دی گئی۔ اس کے علاوہ انڈر دی ٹیبل اور کیا کچھ دیا گیا، اس کا اندازہ بھٹو صاحب کے بیانات سے ہوتا ہے جن میں وہ کہا کرتے تھے کہ وقت آنے پر بتاؤں گا تاشقند میں کیا ہوا تھا۔! ۔۔۔۔۔۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ پھر وہ وقت کبھی نہیں آیا اور وہ بدستور وزیر خارجہ بنے رہے، یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں ملک دو لخت ہو گیا کیونکہ اقوام متحدہ میں مائک کے سامنے انہوں نے بظاہر جوش میں آ کر وہ تقریر ہی پھاڑ دی جس میں اقوام متحدہ سے جنگ بندی کرانے کی اپیل کی گئی تھی، اور کہا کہ ہم ہزار سال لڑیں گے-
اسی وجہ سے بعد میں نوائے وقت نے سرخی جمائی تھی کہ اُدھر تم اِدھر ہم، اس سرخی میں “تم” سے مراد شیخ مجیب الرحمان تھا جس نے الیکشن میں پیپلز پارٹی سے زیادہ سیٹیں جیتی تھیں۔ (چونکہ سقوط ڈھاکہ آج کے جائزے کا موضوع نہیں لہٰذا اسے آئندہ کسی مضمون کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔)
مختصر یہ کہ پاک بھارت مخاصمت نہ صرف قائم رہی بلکہ اس میں اور اضافہ ہوتا چلا گیا، لیکن دوسری طرف قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ستر کی دھائی میں بحیرہ کیسپیئن کے نیچے تیل کے ایک ہہت بڑے ذخیرے کا انکشاف ہوا اور روس نے صوبہ ترکمانستان میں اسے نکالنے اور اسے بھارت کو بیچنے کی منصوبہ بندی کے تحت افغانستان پر قبضہ کر لیا اور وہاں سڑکیں تعمیر کر کے انفراسٹرکچر تیار کر دیا۔ کہا یہ جا رہا تھا کہ اس کے بعد یہ سامراج بلوچستان یا اس کے کچھ مغربی حصے پر قبضہ کرے گا اور اس طرح نہ صرف ایک بندرگاہ حاصل کرے گا بلکہ
سمندر کے راستے بھارت تک پائپ لائن بھی بچھا لے گا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ بحیرہ کیسپین یعنی تیل کا یہ ذخیرہ ایران کو بھی لگتا ہے چنانچہ اس منصوبے میں ایران کی طرف سے تو کسی تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ ایران کی خواہش قدرتی طور پر یہی تھی کہ وہ خود اس ذخیرے کا تیل بیچے گا، روس کو کیوں بیچنے دے؟
اس وقت امریکی سرمایہ کاروں کو یہ سوجھا کہ کیوں نہ وہ خود ہی اس ذخیرے پر قبضہ کر کے اس کا تیل خود بیچیں۔
امریکیوں نے جب بحیرہ کیسپین کے مشرقی کنارے کے اس ذخیرے پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے ہی زیر اختیار عالمی ادارے آئی ایم ایف کے ذریعے روس کو یکایک دیوالیہ کر کے توڑنے کا منصوبہ بنایا اور پھر افغانستان میں ایک ڈمی حکومت قائم کر کے وہاں سے پاکستان کے راستے تیل کی پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ کیا۔
یہ مراحل جب مکمل ہو گئے اور افغانستان میں ڈمی حکومت بنانے کا مرحلہ آیا تو پھر پہلے تو قبائلی گروہوں کی آویزش اور پھر طالبان کی حکومت کے باعث ڈمی حکومت کے قیام میں ناکامی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو خود ہی تباہ کر کے اس کا الزام افغانستان پر لگاتے ہوئے اس پر قبضہ کر کے منصوبہ مکمل کرنے کا طریقہ سوچا۔
دوسری طرف ایران کو اس تیل کی فروخت سے روکنا بھی ضروری تھا اور یہ تبھی ہو سکتا تھا جب ایران کا پوری طرح محاصرہ کیا جائے چنانچہ اس کے لیے پہلے عراق کو براہ راست ایران سے لڑایا جاتا رہا تاکہ اس کے ذریعے امریکہ کو وہاں براجمان ہونے کا موقع ملے۔ پھر جب یہ طریقہ ناکام ہو گیا تو عراق کو کویت پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا گیا۔ صدام حسین اس ٹریپ میں آ گیا اور پھر عراق پر امریکی تسلط کی راہ ہموار ہو گئی۔
ترکی کی سرحد ایران سے الگ کرنے کے لیے وہاں کرد مملکت کی تحریک کو سپانسر کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی اسے زندہ رکھنے کے لیے یہ کام جاری ہے۔ اسی طرح یہاں بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کو سپانسر کیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف ایران کا محاصرہ مکمل ہو سکے بلکہ پائپ لائن کے راستے پر پاکستان کی اجارہ داری بھی ختم کی جا سکے اور ترکمانستان سے آنے والی پائپ لائن افغانستان اور بلوچستان سے ہوتی ہوئی سمندر میں پہنچے اور پھر سمندر کے اندر ہی اندر بھارت تک پہنچ سکے جو اس تیل کی سب سے بڑی منڈی ہے۔


اس تصویر میں مذکورہ پائپ لائن کا وہ روٹ دکھایا گیا ہےجس پر وہ  پاکستان کو اپنی  مرضی کی شرائط  پر منانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ  ان کا خواب یہ ہے کہ انہیں بلوچستان میں اختیار مل جائے تو وہ اس پائپ لائن کو افغانستان سے سیدھا سمندر کی طرف لے جائیں اور راستے پر پاکستان کی اجارہ داری ختم ہو جائے
اس مقصد کے لیے انہیں تنہا ایٹمی قوت پاکستان سے ٹکرانے کی ہمت تو نہیں ہے البتہ وہ جانتے ہیں کہ اگر عالمی برادری بلوچستان کی علیحدگی کی پرزور حمایتی ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کو قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہو گا۔ اسی حمایت کی ایک موہوم سی امید پر یہ پراپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جغرافیائی بناوٹ ایسی ہے کہ اس پائپ لائن کے لیے پاکستان کے علاوہ اور کوئی گزرگاہ ممکن ہی نہیں ہے چنانچہ وہ پاکستان سے رضامندی حاصل کرنے پر مجبور تھے لیکن پاکستان کا مطالبہ یہ تھا کہ پہلے تنازعہ کشمیر کا فیصلہ ہو اور یہ ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ نہ تو وہ بھارت پر زور ڈال سکتے تھے کہ وہی تو اس تیل کا سب سے بڑا ممکنہ گاہک تھا اور نہ پاکستان پر ڈال سکتے تھے کہ پاکستان کی مرضی کے بغیر یہ پائپ لائن بچھ نہیں سکتی تھی۔ اس لیے ان کی مجبوری یہی تھی کہ اگر پاکستان امدادوں وغیرہ سے رضامند نہ ہو تو اس پر قبضہ کر لیا جائے ورنہ اس سے کچھ علاقہ چھین لیا جائے اور بلوچستان کو چھین لینے کی صورت میں انہیں سب کچھ مل سکتا تھا۔
اس پائپ لائن کے لیے پہلے بھی کئی چالیں چلی گئیں جن میں سے کسی سے تو براہ راست قدرت نے حفاظت کی اور کسی میں ہماری عسکری قیادت کی کھلی آنکھیں کام آ گئیں۔ ان میں سے پاکستان پر قبضہ کرنے کی ایک چال تو ایسی تھی جس سے قدرت نے اس قوم کو محفوظ رکھا۔ اس میں سادہ لوح عمران خان کو مہرہ بنا کر انہیں شہید کر کے ان کی حب الوطنی اور جذبۂ خدمت کی آڑ میں انہیں استعمال کیا جا نا تھا  لیکن اس سازش سے قدرت نے براہ راست حفاظت کی۔۔۔
اس سازش کا ذکر جس میں عمران خان کو مہرہ بنایا جانا تھا اور اس سے قدرت نے براہ راست حفاظت کی، اس کا ذکر قبل ازیں ایک دوسرے آرٹیکل میں عرض کر چکا ہوں جس کا نام تھا، عمران خان ہوشیار (دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے)۔
دوسری چال کا اجمال یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات کی علیحدگی کی تحریک کو سپانسر کیا گیا لیکن اس چال کو قیادت نے اس طرح ناکام کیا کہ ان علاقوں کو ایک صوبہ کا درجہ دے کر باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا دیا۔
ویسے بھی اس چال کی کامیابی غیر یقینی تھی کیونکہ افغانستان اور گلگت کے درمیان وادی چترال واقع ہے اور یہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ ہے۔ مزید یہ کہ یہاں آزادی کی تحریک کے جنم لینے اور اس کے بھڑکنے کے امکانات قطعی نہیں تھے۔ اس لیے ان کی پہلی ترجیح بلوچستان ہی تھی تاکہ ایران کا محاصرہ بھی ہو جائے، پاکستان کی سرحد بھی ایران سے علیحدہ ہو جائے اور پائپ لائن کو بھی راستہ اور بندرگاہ مل جائے۔
اس مقصد کے لیے چند سال قبل بگتی، مری اور مینگل سرداروں کو امریکہ کی طرف سے اعلان آزادی کے لیے پچکارا گیا تھا اور انہیں گریٹر بلوچستان کا لالچ دیا گیا جس میں پاکستانی بلوچستان کے علاوہ ایران اور افغانستان کا بھی کچھ علاقہ شامل کیا جانا تھا۔

اگراس وقت عسکری قیادت چوکنا نہ ہوتی تو بلوچستان میں مشرقی تیمور کی تاریخ دہرائی جا چکی ہوتی۔ یہ سردار بلوچستان کی آزادی کا اعلان کر دیتے۔ امریکہ فوراً اسے تسلیم کر لیتا اور ان سرداروں کی حمایت میں وہاں اپنی فوج داخل کر دیتا۔
لیکن ادھر دفاع مضبوط تھا، بگتی سردار فوج کے ہاتھوں مارا گیا، مینگل پکڑا گیا اور مری فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ یوں اُس وقت یہ امریکی چال ناکام ہوئی چنانچہ اب عالمی حمایت کی ایک موہوم سی امید میں یہ کام دوبارہ نئے انداز میں پراپیگنڈے کے زور پر شروع کیا گیا ہے۔
پاکستان کے پاس اس کے لیے پہلے ہی پیش بندیاں موجود ہیں
بلوچستان کی علیحدگی کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کی پیش بندیاں ہر میدان میں مکمل ہیں اور بظاہر فکر کی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی۔ مثال کے طور پر ایک تو یہ ہے کہ گوادر کی بندرگاہ پر چین بہت بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور بلوچستان پر نیٹو حملہ چین پر حملہ تصور ہو گا۔ اس کے علاوہ ایک آسان اور انتہائی مؤثر سیاسی حل بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ انتظامی آسانی کے جواز پر بلوچستان کے دو صوبے بنا دیئے جائیں. قلات ڈویژن اور اس کے مغربی اضلاع خاران وغیرہ اور مکران ڈویژن  پر مشتمل ایک نیا صوبہ قلات کے نام سے بنا دیا جائے جس کی گورنری خان آف قلات کے سپرد کر دی جائے تواس سے دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ علاقے کی ترقی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اس سے امریکی منصوبے کی یکایک ہوا نکل جائے گی، اس کی بلوچ تحریکوں کے لیے سپانسر شپ ختم ہو جائے گی جس سے علیحدگی پسند بلوچ تحریکیں دم توڑ دیں گی اور عالمی میڈیا کو تمام انسانی حقوق پورے ہوتے دکھائی دینے لگیں گے۔
اس کے علاوہ اسی طرح کی کچھ اور تدابیر بھی ہو سکتی ہیں اور زیر عمل بھی دکھائی دیتی ہیں جن میں سرفہرست یہ ہے کہ مقامی سطح پر دفاع پاکستان کونسل کی سرگرمیوں اور پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعے امریکہ کو عوامی حمایت کا حامل راست پیغام دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف روس چین پاکستان ایران اور ترکی   پر مشتمل ایک بہت بڑے اقتصادی بلاک کا قیام بھی محل نظر ہے جس کے لیے  پاکستانی وزیر خارجہ نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی روس کا طویل دورہ کیا ہے۔ یہ بلاک مستقبل میں ان عالمی سرمایہ کاروں کی اس ممکنہ سپریم گورنمنٹ کے مقابلے پر کھڑا دکھائی دے جس کے لیے وال سٹریٹ تحریکوں سے عملی ابتدا کر دی گئی ہے اور یہ بلاک انہیں کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ (اس ممکنہ ورلڈ سپریم گورنمنٹ کے بارے میں نیو ورلڈ آرڈر، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، گلوبلائزیشن اور اینٹی نیشنلزم کی اصطلاحات پر ایستادہ اس منصوبے کا پوسٹ مارٹم کسی دوسرے مضمون میں ہو گا)
مختصر یہ کہ بلوچستان پر یہ امریکی پراپیگنڈا محض ایک بلبلہ ہے اور اگر وہ اس ذخیرے کے بہت بڑے منافع سے دستبردار نہیں ہوتے تو آخر کار انہیں ایران پر حملے کی طرف ہی آنا پڑے گا تاکہ ایران کی پاکستان کو لگنے والی سرحد کے متصل علاقے پر قبضہ کر کے پانچوں مقاصد حاصل کر لیں یعنی ایران کا محاصرہ، اس کی پاکستان سے علیحدگی، پائپ لائن کا راستہ، وسطی ایشیائی ممالک کو بندرگاہ کی فراہمی اور روس چین پاکستان ایران ترکی اقتصادی بلاک کو غیر متصل کرنا۔
اس حملے کے نتیجے میں ایران پلٹ کر اسرائیل پر حملہ کرے گا۔ یہ حملہ ایٹمی بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ایرانی صدر کا ایک نہایت چونکا دینے والا بیان گزشتہ روز میڈیا پر آیا ہے جس میں انہوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنی قوم کو جلد ہی بڑی خوشخبری دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس تمام منظر نامے کے تناظر میں ہمیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کا وہ بیان بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب ان سے ایران کو ٹیکنالوجی کی معلومات فراہم کرنے کا استفسار کیا جاتا تھا تو انہوں نے قوم کو ٹی وی پر بتایا تھا کہ ہاں انہوں نے ایک بہت اچھے مقصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اب صاف سمجھ میں آ رہا ہے کہ وہ اچھا مقصد کیا تھا۔ اگر انہوں نے اس وقت ایسا نہ کیا ہوتا تو ایران پر امریکی حملہ کب کا ہو گیا ہوتا اور اس خطے میں امریکی مقاصد پورے ہو چکے ہوتے۔
امریکہ کے اعلیٰ سرکاری حلقوں میں بلوچستان کا ذکر خالی از علت نہیں ہے۔ بے شک یہ اچنبھا ضرور ہے کہ انہیں انسانی حقوق کی پامالی بلوچستان میں ہی کیوں دکھائی دیتی ہے، کشمیر اور دنیا کے دیگر علاقوں میں کیوں نہیں دیتی؟حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ دار وہیں کے لوگ یعنی قبیلہ سردار اور ان کی اولادیں ہیں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ دار یہی سردار لوگ اور ان کی اولادیں ہیں ہی اس پامالی پر واویلا مچا رہے ہیں جنہوں نے وہاں کی غالب اکثریت کو اپنا کمی کمین بنا رکھا ہے اور درپردہ انہیں امریکی سپورٹ حاصل ہے۔ امریکہ کو یہ سب کچھ معلوم ہے اور اس کا مقصد یہاں انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہے ورنہ وہ ان سرداروں اور وڈیروں کو سپورٹ نہ کرتا۔
امریکہ ایسا کیوں کر رہا ہے اور اس کے بلوچستان میں کیا مفادات ہیں جن کو ہمارے اکثر ماہرین سمجھ نہیں پا رہے؟ یہ ہمارے آج کے تجزئیے کا موضوع ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اسے تحمل اور بردباری سے مطالعہ فرمائیے گا کہ اس میں بہت سے آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا احتمال ہے۔
مجھے ان پر بیچارے صحافیوں، دانشوروں اور سیاسی ماہرین پر بہت ترس آتا ہے جو معمولی سے لالچ میں اچھل اچھل کر بلوچستان پر امریکی پراپیگنڈے کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ امریکہ کی گڈ بکس میں آ جائیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بلوچستان کے لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملے، ان کے علاقے میں تعلیم عام نہیں ہوئی، سڑکیں نہیں بنیں، صنعتیں نہیں لگیں، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کس نے نہیں ہونے دیا؟ کون وہاں سکول کھولنے کی راہ میں رکاوٹ تھا، کون وہاں سڑکوں صنعتوں کی مخالفت کرتا تھا؟ یاد رکھنا ہو گا کہ یہ صرف تین سردار تھے بگتی مینگل اور مری، جن کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ بلوچستان پیکیج اور رائلٹی کے نام پر جو کچھ ملے صرف ہمیں ملے۔ وہ نہ تو وہاں کی عوام کی خوشحالی کے حق میں تھے اور نہ ہی انہیں اپنے پاؤں پر کھڑے دیکھ سکتے تھے۔ اسی لیے نہ وہ وہاں سکول کھولنا برداشت کرتے تھے اور نہ صنعتی ترقی۔ ماضی میں حکومتوں کو یہ بات قبول تھی کہ بہرحال بیگار کیمپ میں غلاموں کا بٹوارا ہوتا ہی رہتا ہے۔
ان سرداروں کا مطالبہ اب بھی یہی ہے لیکن اب یہ مطالبہ ظاہر ہے کہ پورا کرنا ناممکن ہے کیونکہ اب گوادر جس پر چین کی ایک خطیر سرمایہ کاری ہو چکی ہے، اس کے فعال ہونے کے بعد وہاں انفرا سٹرکچر ریلوے لائن اور سڑکوں کا جال بچھنا اور ترقیاتی کام ہونا ایک مجبوری ہے تاکہ وہ راستے آباد ہو سکیں اور یوں نقل و حمل کے لیے محفوظ بن سکیں۔ ظاہر ہے کہ اگر پاکستان کو چین، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے تجارتی کوریڈور بننا ہے تو اس پورے علاقے کو سہولتوں سے آراستہ، خوشحال اور آباد کرنا ہو گا اور یہی وہ بات ہے جو ان سرداروں کو گوارا نہیں ہے چنانچہ براہمداغ بگتی کا یہ بیان شہ سرخیوں میں ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی اور کوئی خوشحالی پیکیج قبول نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان معاملے کا یہ پہلو امریکی گدھوں (حکمران ڈیموکریٹ پارٹی یعنی گدھے کے انتخابی نشان والوں) کو پہلے سے معلوم ہوتا تو کبھی بلوچستان کا شور نہ مچاتے۔ انہوں نے نادانستگی میں یہ کام اور بھی آسان کر دیا ہے اور اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسی بات کو خود لے کھڑی ہوئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ بلوچستان کو اس کا حق ملنا چاہیے اور وہاں خوشحالی آئے۔ امریکہ کا داؤ نہ صرف الٹ گیا ہے بلکہ اسے لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ چند ٹکوں کے لالچ میں امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے والے بیچاروں پر مجھے ترس کیوں آتا ہے۔ دراصل ان کے ساتھ جوڈو کا ہاتھ ہو گیا ہے۔ جوڈو میں لڑائی کا اصول یہ ہے کہ اگر مخالف گھونسہ مارے تو اس کا گھونسہ پکڑ کر اپنی جانب مزید کھینچو، اس کا توازن بگڑ جائے گا۔ اب امریکی گدھوں کا توازن بگڑ گیا ہے اور ساتھ ہی ان گدھوں سے محبت رکھنے والوں کا بھی کہ بہرحال ان کے اس طرح اچھل  اچھل کر شور مچانے کی وجہ سے وہ اِدھر والوں کی نگاہ میں آ گئے ہیں۔

اب اگر ایران پر امریکہ یا اسرائیل سے حملہ ہوتا ہے تو ایران کی طرف سے جواب میں اسرائیل ہدف بنے گا کیونکہ امریکہ بظاہر رسائی سے باہر ہے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکی سرمایہ کاروں کی جڑیں اسرائیل میں ہیں۔ تب پھر ان کے پاس اسے مقدس صلیبی لڑائی بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا جس کا سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کو شہید کیا جائے۔ اس سے اسلامی جہادی طبقہ بھی اسی طرف چل دے گا اور یوں انہیں افغانستان میں قدم جمانے کا موقع مل جائے گا۔

میں سمجھتا ہوں اس کے علاوہ ان کے پاس اور سب راستے بند ہیں لیکن اس مقدس لڑائی کی طرف آنے سے وہ اس لیے خوفزدہ ہیں کہ اس سے تیسری عالمی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس سے دنیا بھی تباہ ہو سکتی ہے۔
وہ نہ اس تیل کے ذخیرے سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس وقت تک عالمی جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں جب تک انہیں کرہ ارض سے باہر خلا میں چاند پر یا کسی سیارے پر محفوظ ٹھکانہ میسر نہ آ جائے۔ یاد رہے کہ خلائی اسٹیشن اب محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ گزشتہ برس چین نے ایک انوکھا تجربہ کیا تھا اور اس نے اپنا ہی ایک خلائی سیارہ خلا میں چھوڑا اور پھر اس کا نشانہ لے کر ایک میزائل چھوڑا جس نے اس سیارے کو خلا میں ہی تباہ کر کے ان سب کو یہ سمجھا دیا تھا کہ اگر کوئی خبیث اس دنیا کو تباہ کرتے ہوئے کچھ عرصہ کے لیے خلا میں پناہ گاہ بنائے گا تو وہاں بھی محفوظ نہیں ہو گا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امریکی امراء نے اس چینی تجربے کے بعد کس قدر شدید واویلا مچایا تھا۔
خلاصۂ کلام یہ کہ بلوچستان مشرقی تیمور کی طرح تر نوالہ نہیں ہے۔ انہیں یا تو Safe Exit کے نام پر تیل کے اس ذخیرے سے ہاتھ دھونا ہوں گے یا اس خطے سے دور کہیں ایک مذہبی جنگ کی بھٹی دہکانا پڑے گی۔ کوئی تیسرا راستہ بظاہر دکھائی نہیں دے رہا، تاہم دونوں صورتوں پاکستان کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

Monday, September 24, 2012

بلاول زرداری اور 2 بچوں کی ماں پاکستانی وزیرخارجہ کے معاشقے پر صدر زرداری پریشان



پاکستان کی نوجوان اور شادی شدہ خاتون وزیر خارجہ جن کے حسن کے چرچے بھارتی ایوانوں میں تھرتھری پھیلاتے تھے اب انہوں نے پاکستان ایوان صدر میں بھی تھرتھری پھیلا دی ہے اور پاکستان صدر کے نوجوان بیٹے بلاول ذرداری بھی ان کے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ایک غیر ملکی میگزین کی  رپورٹ کے مطابق اس قضیے سے پاکستانی ایوانوں میں سخت کشیدگی اور سرد جنگ شروع ہوچکی ہے مگر حنا ربانی کھر اور بلاول زردداری اپنے معاشقے میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ حنا ربانی کھر کی ایک بیٹی بھی ہے۔  بنگلہ دیشی جریدے بلیٹنز کے مطابق دونوں ایک دوسرے کو تحائف بھیج رہے ہیں اور عیدے اور سالگرہ کے موقع پر ایک دوسرے کو تحائف اور پیغامات بھیج کر تجدید محبت کی گئی ہے۔صدر زرداری کو ایوان صدرمیں حنا ربانی کھر اور بلاول کی ایک رومانوی ملاقات کے دوران اس بات کا علم ہوا کہ دونوں کس حد تک نکل چکے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دونوں کے موبائل فونز کے ریکارڈ سے بھی ثبوت حاصل کئے جو رومانوی گفتگو پر مشتمل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اس پر صدر زرداری نےمشتعل ہو کر حنا ربانی کھر کو ایوان صدر میں طلب کیا اور انہیں اپنے بیٹے سے دور رہنے کو کہا جس پر حنا ربانی کھرنے بھی غصے کا اظہار کیا اور انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ وہ ان کی ذاتی زندگی سے دور رہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر صدر نے فورا ان کے معافی نہ مانگی تو وہ  وزارت اور پی پی کو چھوڑ دیں گی۔ جب یہ بات بلاول کے علم میں آئی تو اس نے بھی پی پی اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دی جس پر صدر کو اندازہ ہوا کہ معاملہ کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول زرداری نے رواں برس کے آخر میں  پارٹی اور ملک چھوڑنے کا پروگرام بنا رکھا ہے اور اسی عرصے میں حنا ربانی کھر کی جانب سے بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ مین دعوی کیا گیا ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان سرد جنگ گہری ہوتی جارہی ہے اور دوسری جانب حنا ربانی کھر نے بھی اپنے شوہر فیروز گلزار سے طلاق لینے کے لئے بات چیت شروع کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حنا ربانی کھر اپنے شوہر کے دوسری عورتوں سے تعلقات پر دل برداشتہ تھیں اور جیسے ہی بلاول نے انہیں سہارا دیا وہ جھولی میں آ گریں۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں پریمی شادی کر کے سوئیٹزر لینڈ میں مقیم ہونے کا سوچ رہے ہیں۔

Monday, September 17, 2012

سی آئی اے کا موٴثر ترین ہتھیار خواتین


اس وقت سی آئی اے کا موٴثر ترین ہتھیار خواتین ہیں،امریکی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ عہدوں پر40فی صد خواتین براجمان ہیں۔ اسامہ کمپاوٴنڈ کی تلاش اور کامیاب آپریشن کا سہرا ایک اسمارٹ سی آئی اے ایجنٹ ’جن‘ کے سر جاتا ہے۔فیصل آباد سے القاعدہ کے آپریشنل منصوبہ ساز ابو زبیدہ کو تلاش کرنے والی ایک خاتون’جینفرمیتھیو ‘تھی۔نائن الیون کے بعد القاعدہ کے پہلے سینئر کمانڈر کی گرفتاری میں مدد دینے اور القاعدہ کے متعلق پہلی وارننگ جاری کرنے والی بھی خواتین ایجنٹ تھیں۔ سی آئی اے کے القاعدہ کے متعلق یونٹ میں سب ٹارگیٹر خواتین ہیں۔ڈرونز پروگرام کو چلانے والی زیادہ تر خواتین ہیں۔اس وقت سی آئی اے کی ایک حسینہ ہی پاکستانی امور کی سب سے اہم ترین ماہر ہے جس کی خوبصورتی دیکھ کر اوباما نے کہا کہ تم پاکستانی امور کی ماہرلگتی تو نہیں ۔امریکی جریدےمیں شائع’سی آئی اے کے خفیہ ہتھیار‘ کے عنوان سے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے تک مدد دینے والی ایک سی آئی اے خاتون ایجنٹ تھی۔اسامہ بن لادن پر چھاپے کے ایک غیر مجاز کہانی میں انکشاف کیا گیا کہ جن’Jen‘نامی خاتون کئی سال سے اسامہ کا پیچھا کر رہی تھی ۔جن نے نیوی سیلز کو یقین دلایا کہ کمپاوٴنڈ میں اسامہ ہی ہے ۔ حملے سے پہلے اس خاتون ایجنٹ نے سیلز کو بریفنگ دی۔اسامہ آپریشن کی کامیابی کا سہرا اسی جن نامی خاتون کے سر جاتا ہے۔اسے اسامہ کے کمپاوٴنڈ کی تمام تفصیل معلوم تھی کہ کو ن سا دروزاہ باہر یا اندر کی طرف کھلتا ہے۔جریدے کے مطابق جن ایک نئی قسم کی اسمارٹ اور خود اعتماد سی آئی اے خاتون آفیسر ہے ۔اس سے پہلے سی آئی خواتین کو جاسوسی کے مشکل کام سے دور رکھتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔ جن ایک ٹارگٹر ہے ایک تجزیہ کا ر جو ڈرونز فوٹیج،فون کا ل اور دیگرانٹیلی جنس معلومات سے دہشت گردوں ، منشیات اسمگلروں اور اسلحہ ڈیلروں کی پہچان اور ان کے ٹھکانوں کا تعین کرتی ہے۔نائن الیون کے بعد سی آئی اے شدید تنقید کا شکار رہی تاہم اسی مدت کے دوران اس نے جدید خطوط پر جن کی طرح کی ایک نئی تربیت یافتہ فورس تیا ر کی۔جو مکمل سائنسی انداز میں اپنے ہدف تک پہنچتی ہے۔ اسی عرصے کے دوران سی آئی اے کی طرف سے کامیاب آپریشن میں خواتین کا کردار اہم رہا۔ سی آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق،14ٹارگیٹرکی اکثریت خواتین ہی ہیں۔سی آئی اے کا یونٹ ایلک اسٹیشن کو القاعدہ کی تلاش میں وقف کیا گیا اس یونٹ نے90کی دہائی میں خواتین تجزیہ کاروں کو بھرتی کیا۔ اور انہیں خصوصی تربیت دی گئی۔اس یونٹ کے پہلے سربراہ مائیک اسکیئور کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے1999میں اپنا عہدہ چھوڑا تو اس وقت اس یونٹ کی تمام14ٹارگیٹر خواتین ہی تھیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد القاعدہ کے پہلے اعلی عہدے دار کی گرفتاری میں انہیں خواتین کا کردار تھا۔حالیہ تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور   سی آئی اے ٹیم کی سربراہ جینفر میتھیو تھی جس نے فیصل آباد کے ایک سیف ہاوٴس سے القاعدہ کا ایک سینئر آپریشنل منصوبہ ساز ابو زبیدہ کو تلاش کیا ۔افغانستان میں خوست میں سی آئی اے اسٹیشن کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے اس نے2009میں اپنے بچوں کے ساتھ کرسمس کے موقع پر اسکائیپ ویڈیو چیٹ کی ،اسی دوراں جب اس کے بچوں نے اپنے گفٹ کھولے تو انہوں نے کہا کہ’ ممی کیا آپ اپنی گن دکھا سکتی ہیں‘ پھر اس نے ویڈیو پر اپنے بچوں کو پستول اور رائفل دکھائی۔اس کے پانچ دن بعد میتھیو کو ہلاک کردیا گیا جب ایک اردنی ڈاکٹر کو اس کے سی آئی اے کا جاسوسی کا پتہ چلا،ڈاکٹرنے ملاقات میں اپنے ساتھ میتھیو کو بھی بم سیس اڑا دیا۔ اسی طرح سی آئی اے کی ایک سینئر تجزیہ کار گینا بینٹ جس نے 1993میں القاعدہ کے متعلق پہلی وارننگ جاری کی تھی۔2009 کے اوائل میں صدر اوباما نے سی آئی اے آفیسر اور انسداد دہشت گردی کے ماہربروس ریڈل کو افغان جنگ کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی۔ اس نے سی آئی اے ہیڈ کوارٹر لینگلی کا سب سے پہلے دورہ کیا اسے وہاں سب سے نمایاں بات خواتین کی بھاری تعداد لگی،اسے ڈرونز پر بریفنگ دینے والی بھی ایک خاتون تھی اور سب سے حیرانی کا پہلو کہ ڈرون کے خفیہ پروگرام کو چلانے والی زیادہ ترخواتین ہی ہیں۔پاک افغان پر نئی امریکی حکمت عملی کے وائٹ ہاوٴس کے اعلان سے قبل اوباما نے ریڈل کو اس کا شکریہ ادا کرنے لئے اسے اوول آفس پر دعوت دی۔ دعوت میں شامل ریڈل کی ٹیم میں وزارت خارجہ سے افغان امور کی ماہر اور سی آئی اے سے پاکستان امور کی ماہر خاتون تھی۔ ریڈل نے اوباما سے اس کا تعارف یو ں کرایا کہ اس سے بہترین پاکستانی امور پر ماہر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔اوباما نے اونچی ہیل پہنی سی آئی اے آفیسر کودیکھ کر تفریحی انداز میں کہا کہ تم پاکستانی امور کی ماہر دکھائی تو نہیں دیتی۔

Wednesday, September 5, 2012

دہشتگردوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی سازش' امیگریشن حکام میں کھلبلی

وقت نيوز

بڑے پیمانے پر غیرملکی دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کرانے کی سازش بے نقاب ہو گئی۔ امیگریشن ڈیٹا غائب اور سی سی ٹی وی کیمرے بند کرنے کا انکشاف ہوا، مختلف ممالک سے پاکستان کے جعلی ویزے جاری کئے گئے، ایف آئی اے حکام کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے خلاف عالمی طاقتوں بالخصوص غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی گھناونی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جن کے مطابق غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے جال بچھا رہی ہیں۔ جس کیلئے اپنے کارندوں اور دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے پاکستان میں داخل کرایا جا رہا ہے۔ ان خبروں کی بازگشت میں بعض ایسے ثبوت اور حقائق سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس پورے کھیل کو بے نقاب کر دیا ہے۔ این جی اوز اور سفارتی عملے کی آڑ میں خفیہ ایجنٹوں کی پاکستان آمد پرانا قصہ ہے اب امیگریشن اور ایف آئی اے حکام کی ملی بھگت سے بغیر انٹری پاکستان آمد کے واقعات نے اہم حلقوں کو چونکا دیا ہے، وقت نیوز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق جعلی پاکستانی ویزے پر پاکستان آنے والوں کے نام نہ صرف امیگریشن ڈیٹا سے غائب کر دیئے گئے ہیں۔ بلکہ ایئرپورٹ پر لگے سی سی ٹی کیمروں کو بھی دانستہ بند کرکے شناخت چھپانے کی کوشش کی گئی، اسی سال 28مارچ کو 16بنگلہ دیشی باشندوں نے 3اپریل کو پاکستان آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 222کے ذریعے بکنگ کرائی جس کے لیے ٹریول ایجنٹ کو 34263 بنگلہ دیشی ٹکا فی کس کی ادائیگی کی گئی۔ پی آئی اے کی پروازدبئی سے بذریعہ فیصل آباد بہاولپور پہنچی جس میں سوار 5بنگلہ دیشی افراد کی تفصیل اس طرح ہے۔ -1 محمد عرفات (پاسپورٹ نمبرC0069547 ٹکٹ نمبر 2142981965477) -2 جاکر (پاسپورٹ نمبرAC6047867 ٹکٹ نمبر 2142981965494) -3حسین سورور(پاسپورٹ نمبرAA6478070 ٹکٹ نمبر 2142981965478) -4 محمد بلال الدین (پاسپورٹ نمبرAA6544476 ٹکٹ نمبر2142981965475) -5 حسین سہیل (پاسپورٹ نمبر AB3004785 ٹکٹ نمبر 2142981965476) یہ افراد پی آئی اے کی پرواز پی کے 222 کے ذریعے بہاولپور پہنچے مگر ایف آئی اے حکام نے Personal Identity Secure Comparison and evelution system میں کوئی ریکارڈ شامل نہیں کیا ۔ایف آ ئی اے حکام نے نہ صرف ان 5افراد کو امیگریشن کاونٹر پر لیجائے بغیر کلیئر کر دیا بلکہ کسٹمز کلیئرنس ہونے تک ایف آ ئی اے کا اہلکار ان غیرقانونی بنگلہ دیشی افراد کے ساتھ رہا۔ 4 اپریل کو(PISCES) سسٹم میں 75مسافروں کا ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا گیا جن میں یہ 5 افراد شامل نہیں تھے۔ اس انتہائی خطرناک صورتحال کا علم ہونے کے بعد ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشن سے ان افراد کے ویزوں کی تصدیق کروائی گئی۔ جہاں سے 2مئی 2012کو لکھے جانے والے خط نے ایک اور بڑے سکینڈل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ پاکستانی ہائی کمشن نے ان 16بنگلہ دیشیوں کو ویزا جاری نہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ یہ تمام ویزے جعلی ہیں جن دیگر افرادکے ویزے جعلی قرار دیئے گئے ان کے نام معمر الدین، محمدکپیل الدین، محمد ابراہیم، مطبرجاہد، مطبر لٹن او ہائیدل بیپاری، محمد مرسلین اسلام، محمد سیف الرحمن، رپن میہا، روم احمد اورکلیمیہ تھے۔ ان افراد نے تین مختلف گروپوں کے ذریعے پاکستان پہنچنا تھا۔ پہلے گروپ میں پانچ دوسرے گروپ میں تین اور تیسرے گروپ میں نو بنگلہ دیشی افراد شامل تھے۔ بہاولپور پہنچنے والے پانچ افراد پہلے گروپ کے ممبر تھے۔ پاکستان کے جعلی ویزے جاری ہونے کے اس انکشاف نے دفتر خارجہ اور متعدد حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ تحقیقات کا دائرہ جو ں جوں وسیع ہوا انکشافات کی نوعیت بھیانک سے بھیانک تر ہوتی چلی گئی۔ 5بنگلہ دیشی باشندوں کا ڈیٹا (PISCES)سسٹم میں اپ گریڈ نہ ہونے سے بڑھ کر یہ راز بھی کھلا کہ جس وقت یہ افراد امیگریشن کاونٹر کے ایریا میں پہنچے تو بہاولپور ایئرپورٹ کے اس حصے میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند ہوگئے۔ ایئر پورٹ پر نصب یہ کیمرے 6 بجکر ایک منٹ 10سیکنڈ سے لیکر 6 بجکر 2 منٹ 28 سیکنڈ یعنی کل 77سیکنڈ تک بند رہے۔ عجب اتفا ق ہے کہ اسی دوران بہاولپور ایئر پورٹ پر نصب PISCES سسٹم یعنی امیگریشن سسٹم کے کمپیوٹرز بھی بند تھے۔ یہ کمپیوٹر 6 بجکر ایک منٹ 10سیکنڈ پر بند ہوئے اور 4 منٹ 20 سیکنڈ کے وقفے کے بعد6 بجکر 5 منٹ 30 سیکنڈ پر دوبارہ آن ہوئے۔ ملکی تاریخ کے اس اہم ترین سکینڈل نے اعلی حلقوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ نہ صرف جعلی پاکستانی ویزے جاری ہوئے بلکہ امیگریشن اور پھر ایئرپورٹ پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند رہے۔ یہ کہانی بہت کچھ بتانے کیلئے کافی تھی۔ ایف آئی اے حکام نے حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اعلی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔ ایف آ ئی اے کے سب انسپکٹر روف اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر اللہ وسایا کو ابتدائی تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔ مگر سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان پیدا ہو گئے۔ ماضی میں ناپسندیدہ عناصرکو پاکستانی ویزے جاری کئے جانے کی دھول ابھی بیٹھی نہیں کہ یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کہیں بغیر یا جعلی ویزوں پر آنے والے افراد کو روکنے کیلئے دانستہ کوتاہی یا غفلت تو نہیں برتی جا رہی۔ ان 5افراد کی طرح دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کتنے افراد کس کس کی ملی بھگت سے پاکستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ معاملہ رشوت ستانی کا ہے یا کسی کے حکم کی پیروی کا، نقصان ہر دو صورتوں میں ملک ہی کا ہے۔ پاکستان میں مقامی حکام اور نیٹ ورک کی مدد سے داخل ہونیوالے افراد ملکی سالمیت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔ اس نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور سدباب کیلئے ملکی ادارے نہ صرف فکرمند ہیں بلکہ اس کی سرکوبی کیلئے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔دریں اثنا وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے اس سارے معاملے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

Tuesday, August 28, 2012

کرپشن اور زرداری جیت گیا: سوئس مقدمات 25ستمبر کو ہمیشہ کیلئے ختم


غیر ممالک میں قائم ہونے والے مقدمات کے ماہر نیب کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ 15/ سال کی قانونی حد پوری ہونے پر سوئس عدالتوں میں موجود کرپشن کے مقدمات ستمبر کے تیسرے ہفتے میں ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں گے اسی دوران ایک ذریعے نے دعوی کیا ہے کہ سوئس حکام سے یقین دہانیاں طلب کرنے کے لئے وزیر قانون فاروق نائیک حال ہی میں خفیہ طور پر سوئٹزرلینڈ گئے تھے کہ اگر مناسب انداز میں سوئس حکام کو ستمبر 2012 کے بعد جب 15/ سال کی پابندی ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد جب خط لکھا جائے گا تو کچھ نہیں ہوگا نائیک سے ایک ٹی وی اینکر نے براہِ راست پوچھا تھا کہ آیا وہ عید کی چھٹیوں میں جنیوا کے دورے پر گئے تھے اور آیا وہ اپنے ساتھ سوئس حکام کو لکھا جانے والا خط ساتھ لے گئے تھے؛ اس پر فاروق نائیک نے انکار نہیں کیا وہ براہِ راست جوابات سے گریز کرتے رہے اور کہا کہ میں کئی مرتبہ ان مقدمات کیلئے جنیوا جا چکا ہوں اور اب مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے جب ان سے مزید اصرار کیا گیا تو انہوں نے کہا عید گزر چکی اس کے بارے میں بات نہ کریں، اب آنے والی عید کی بات کریں جب اینکر نے کہا کہ آنے والی عید قربانی کی ہوگی تو وزیر قانون صرف مسکرائے، لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر قانون کا دورہ سوئس حکام سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کیلئے تھا لیکن وہ کسی سوئس عہدیدار سے براہِ راست ملاقات نہ کرسکے لیکن انہیں وکلا اور مڈل مین پر انحصار کرنا پڑا جس نے سوئس عہدیداروں سے بات کی اور انہیں اس خط کی نقل دکھائی جو شاید پاکستان سوئس حکام کو بھجوائے، لیکن گزشتہ پانچ سال سے غیر ممالک میں ان کرپشن مقدمات کی پیروی کرنے والے نیب کے بیرسٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ سوئس پینل کوڈ کے مطابق مختلف افراد کے خلاف ستمبر 2012 کے بعد مقدمات بحال کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔بیرسٹر اکبر نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں مختلف افراد کے خلاف کمیشن اور کک بیک وصول کرنے کے یہ مقدمات ستمبر 1997 میں قائم کیے گئے تھے آئندہ ماہ ستمبر 2012 میں یہ مقدمات اپنی 15/ سال کی میعاد مکمل کرلیں گے جس سے یہ مقدمات ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں گے متعدد مرتبہ دفتر، گھر کے نمبروں اور موبائل فون پر پیغامات بھیجنے کے باوجود اگرچہ فاروق نائیک سے رابطہ نہ ہوسکا لیکن سوئٹزرلینڈ میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ فاروق نائیک نے وہاں موجود اپنے پاکستانی دوستوں کو اپنے خفیہ دورے کی وجہ بتائی ذرائع کے مطابق فاروق نائیک نے اپنے دورے کے موقع پر یہ اشارہ دیا کہ چند ہفتوں میں سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں سوئس حکام کو خط لکھ دیا جائے گا پیپلز پارٹی مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہی ہے اور اس چکر میں اپنا ایک وزیراعظم بھی گنوا چکی ہے کیونکہ وہ 15/ سال کی مدت مکمل ہونے سے پہلے سوئس حکام کو خط نہیں لکھنا چاہتی پیر کو عدالت میں پیشی کے دوران وزیراعظم پرویز اشرف بھی مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاکہ معاملے کو مزید گھسیٹا جا سکے دورہ چین کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا تاکہ آئندہ سماعت تاخیر سے ہو اور 15/ سال کی مدت بھی پوری ہوجائے کہا جاتا ہے کہ ان مقدمات کو 15/ سال کی پابندی مکمل ہونے تک گھسیٹا جائے کیونکہ مدت مکمل ہونے کے بعد یہ مقدمات ایکسپائر ہوجائینگے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی تصدیق سوئٹزرلینڈ کے کرمنل پروسیجر کوڈ(ضابطہ فوجداری)کے آرٹیکل 97/ اور 98/ کو پڑھنے سے ہوجائے گی یہ آرٹیکل سوئس حکومت کی جانب سے کسی بھی مقدمہ کی پیروی کیلئے رکھی گئی مدت کے متعلق ہیں، تاہم کچھ قانونی ماہرین ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سوئس آرٹیکل 97(3) کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ اگر عدالت کی جانب سے مدت ختم ہونے سے پہلے کئی سزا سنائی گئی ہے تو مقدمات ختم ہونے کی کوئی وقتی حد مقرر نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ تفتیشی مجسٹریٹ ڈینل ڈیوڈ نے جولائی 2003 میں ایک ملزم کو 6/ ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور 12/ ملین ڈالرز تک کی منی لانڈرنگ کی رقم ضبط کرنے کا حکم دیا تھا جو جنیوا کی سرویلنس کمپنی نے بطور وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دور میں ایک ٹھیکے کے عوض دیئے گئے تھے بیرسٹر شہزاد کا کہنا ہے کہ سوئس مجسٹریٹ کی جانب سے سنائی جانے والی سزا تکنیکی بنیادوں پر فی الوقت ملتوی کردی گئی تھی یعنی عائد کیے جانے والے الزامات معمولی نوعیت کے تھے جبکہ جرم بڑی سطح کا تھا لہذا فرد جرم عائد ہی نہیں ہوئی تھی کہ 15/ سال کی مدت کا اطلاق ہوسکے۔

Friday, February 17, 2012

Of Aisha`s age at marriage


By Nilofar Ahmed | 2/17/2012 12:00:00 AM
IT is said that Hazrat Aisha was six years old when her nikahwas performed with Prophet Muhammad (PBUH) in Makkah, and nine years old when she moved in to live with her husband in Madina after Hijra.

This piece of misinformation has led to the wrong view that child marriage has the sanction of Islam. It must be noted that establishing the authenticity of hadiths, the narrators` circumstances and the conditions at that time have to be correlated with historical facts. There is only one hadith by Hisham which suggests the age of Hazrat Aisha as being nine when she came to live with her husband.

Many authentic hadiths also show that Hisham`s narration is incongruous with several historical facts about the Prophet`s life, on which there is consensus. With reference to scholars such as Umar Ahmed Usmani, Hakim Niaz Ahmed and Habibur Rehman Kandhulvi, I would like to present some arguments in favour of the fact that Hazrat Aisha was at least 18 years old when her nikah was performed and at least 21 when she moved into the Prophet`s house to live with him.

According to Umar Ahmed Usmani, in Surah Al-Nisa, it is said that the guardian of the orphans should keep testing them, until they reach the age of marriage, before returning their property (4:6). From this scholars have concluded that the Quran sets a minimum age of marriage which is at least puberty. Since the approval of the girl has a legal standing, she cannot be a minor.

Hisham bin Urwah is the main narrator of this hadith. His life is divided into two periods: in 131A.H. the Madani period ended, and the Iraqi period started, when Hisham was 71 yearsold. Hafiz Zehbi has spoken about Hisham`s loss of memory in his later period.

His students in Madina, Imam Malik and Imam Abu Hanifah, do not mention this hadith. Imam Malik and the people of Madina criticised him for his Iraqi hadiths.

All the narrators of this hadith are Iraqis who had heard it from Hisham.

Allama Kandhulvi says that the words spoken in connection with HazratAisha`s age were tissa ashara, meaning 19, when Hisham only heard (or remembered), tissa, meaning nine. Maulana Usmani thinks this change was purposely and maliciously made later.

Historian Ibn Ishaq in his Sirat Rasul Allah has given a list of the people who accepted Islam in the first year of the proclamation of Islam, in which Hazrat Aisha`s name is mentioned as Abu Bakr`s `little daughter Aisha`. If we accept Hisham`s calculations, she was not even born at that time.

Some time after the death of the Prophet`s first wife, Hazrat Khadija, Khawla suggested to the Prophet that he get married again, to a bikran, referring to Hazrat Aisha (Musnad Ahmed).

In Arabic bikrun is used for an unmarried girl who has crossed the age of puberty and is of marriageable age. The word cannot be used for a six-year-old girl.

Some scholars think that Hazrat Aisha was married off so early because in Arabia girls mature at an early age. But this was not a common custom of the Arabs at that time. According to Allama Kandhulvi, there is no such case on record either before or after Islam. Neither has this ever been promoted as a Sunnah of the Prophet. The Prophet married off his daughters Fatima at 21 and Ruquiyya at 23. Besides, Hazrat Abu Bakr, Aisha`s father, married off his eldest daughter Asma at the age of 26.

Hazrat Aisha narrates that she was present on the battlefield at the Battle of Badar (Muslim). This leads one to conclude that Hazrat Aisha moved into the Prophet`s house in 1 A.H. But a nine-year-old could not have been taken on a rough and risky military mission.

In 2 A.H, the Prophet refused to take boys of less than 15 years of age to the battle of Uhud. Would he have allowed a 10year-old girl to accompany him? But Anas reported that he saw Aisha and Umme Sulaim carrying goatskins full of water and serving it to the soldiers (Bukhari). Umme Sulaim and Umme Ammara, the other women present at Uhud, were both strong, mature women whose duties were the lifting of the dead and injured, treating their wounds, carrying water in heavy goatskins, supplying ammunition and even taking up the sword.

Hazrat Aisha used the kunniat, the title derived from the name of a child, of Umme Abdullah after her nephew and adopted son. If she was six when her nikah was performed, she would have been only eight years his senior, hardly making him eligible for adoption. Also, a little girl could not have given up on ever having her own child and used an adopted child`s name for her kunniat.

Hazrat Aisha`s nephew Urwah once remarked that he was not surprised about her amazing knowledge of Islamic law, poetry and history because she was the wife of the Prophet and the daughter of Abu Bakr. If she was eight when her father migrated, when did she learn poetry and history from him? There is consensus that Hazrat Aisha was 10 years younger than her elder sister Asma, whose age at the time of the hijrah, or migration to Madina, was about 28. It can be concluded that Hazrat Aisha was about 18 years old at migration. On her moving to the Prophet`s house, she was a young woman at 21.

Hisham is the single narrator of the hadith whose authenticity is challenged, for it does not correlate with the many historical facts of the time. آ• The writer is a scholar of the Quran and writes on contemporary issues.

nilofar.ahmed58@gmail.com

Tuesday, January 10, 2012

میمو: سنسنی خیز انکشافات

حقائق کا پردہ چاک کرتے ہو ئے انتہائی سنسنی خیز انکشافات پر مبنی ”عبدالجبار ناصر“ کی تفصیلی رپورٹ

صدر پاکستان کی علالت،میمو گیٹ اسکینڈل ،نیٹو و امریکی حملوں اور پاکستان نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کے آئے نت نئے انکشافات نے پاکستانی سیاست، حکومت قومی سلامتی کے اداروں اور اعلیٰ عدلیہ سمیت تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی میں ہر طرف ہلچل مچادی ہے، جن کے منفی اثرات اب پورے جنوبی ایشیاءمیں ظاہر ہونے لگے ہیں لیکن پاکستان میں میمو گیٹ اسکینڈل کے بعد صدر آصف علی زرداری کی پر اسرار علالت اور منصور اعجاز کے حکومت کے بعد آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کی جانب سے حکومت یا صدر کی تبدیلی کے منصوبے کے حالیہ انکشاف نے اداروں کے درمیان ٹکراﺅ کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ میمو گیٹ اسکینڈل کے معاملے کو مسلم لیگ( ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف عدالت عظمیٰ تک لے گئے اور عدالت کے ابتدائی احکام کے بعد اب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا، پاکستان نژاد امریکی شہری منصور اعجاز،امریکامیں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور حکومت کی جانب سے عدالت میںجوابات داخل کرانے بعد جہاں صورت حال کسی حد تک واضح ہوئی ہے وہیں اب اداروںکے درمیان ٹکراﺅ کا امکان بھی بڑھ گیا ہے ۔ 

تاہم اب عدالت عالیہ ہی کوفیصلہ کرناہے کہ میمو کی حقیقت کیا ہے اور اصل ذمہ دار کون ہیںلیکن بیشتر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستانی سیاست کے مستقبل کے فیصلے میں میمو گیٹ اسکینڈل، بون کانفرنس اور 26 نومبر 2011ءکو مہمند ایجنسی کی سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی اور نیٹو افواج کی دہشت گردی بہت اہم کردار ادا کرے گی اوراس حوالے سے صدر کی پراسرار علالت اور ان کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پران تمام ابہام، تنازعات، خدشات،تحفظات اور سوالات کی اصل وجہ میمو گیٹ اسکینڈل کو ہی قرار دیا جا رہا ہے اس لئے ہم اس مضمون میں میمو گیٹ اسکینڈل کے بنیادی کرداروں کے حوالے سے ذکر کریں گے۔اب تک میمو گیٹ اسکینڈل کے4 بنیادی کردار منظر عام پر آ چکے ہیں، جن میں سے ہر ایک کے ماضی کو ترتیب سے پرکھنا ضروری ہے تاکہ اصل مقصد دنیا کے سامنے آسکے۔

پہلاکردار پاکستان نژاد امریکی شہری منصور اعجاز۔دوسراکردار امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی۔تیسرا کردارامریکی صدر بارک اوباما کے قومی سلامتی کے سابق سینئر مشیر جیمز ایل جونز اور چوتھا کردادرامریکی فوج کے سابق سربراہ مائیک مولن ہے۔ آخر الذکر تینوں کرداروں سے پوری قوم اور باہر کی دنیا کے بیشتر لوگ باخبر ہیں لیکن اول الذکر کے حوالے سے بہت ساری چیزیں دنیاکی نظروں سے اوجھل ہیں۔ حالانکہ منصور اعجاز نامی یہ کردار گزشتہ 30 سال سے پاکستانی اور عالمی معاملات میں نمایاںہے۔اس لئے سب سے پہلے ہم اسی کردار کا جائز لیںگے۔ مصور منصور اعجاز( پورا نام) کے والدین کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے( نسلاً کشمیری )ہے جبکہ اس کی پیدائش امریکی ریاست فلوریڈا میں 1961ءمیں ہوئی۔ 

عملی زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی یہ شخص ہمیشہ پراسرار کردار کاحامل رہا ہے۔ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم امریکا میں ہی حاصل کی اور پھر اپنے آپ کو کاروبار، میڈیا سے منسلک رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یورپ کے بڑے نشریاتی اشاعتی اداروں تجزیوں اور مضامین کے ذریعے اپنے خیالات پیش کرتا رہا جن میں اس کا اصل ہدف اسلام، مسلمان، پاکستان اور پیپلزپارٹی رہے ہیں، سازشی ذہن، چرب زبان اور تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے مشنری جذبات کے ساتھ اپنے مخصوص اہداف کے حصول کے لئے کام کرتا رہا اور بہت کم وقت میں امریکا کے اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی جواس کے مقصد کا بنیادی حصہ تھا۔ منصور اعجاز امریکی لہجے میں زبان ٹیڑھی کرکے انگلش میں بات کرتے ہوئے کبھی بھی اس میں پنجابی کا پیوند بھی لگاتے ہیں لیکن اردو کو چھوتے تک نہیںہیں۔

منصور اعجاز کا کردار ہمیشہ پراسرار رہا اگرچہ انہوں نے شروع میں اپنے آپ کو کاروبار سے منسلک رکھنے کیکوشش کی لیکن پھر امریکی خفیہ ادارے کے سابق ڈائریکٹر جیمز وزلے کے ساتھ کام شروع کیا۔ 1990ءمیں انہوں نے کریسنٹ مینجمنٹ انویسٹمنٹ کے نام سے کمپنی قائم کی جس کے یہ بانی چیئرمین تھے، ایک سابق امریکی جنرل جیمز ایلن ابراہا مسن بھی ان کے شریک رہے۔ منصور اعجاز کے والد ڈاکٹر مجدد احمد اعجاز دراصل ایٹمی سائنسدان تھے جنہوں نے امریکی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ڈیزائننگ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام 60کی دہائی میںامریکاگئے تھے، جہاں کچھ عرصے بعد انہوں نے ڈاکٹر مجدد احمد اعجاز(کزن) کو بھی بلوایا۔ بعدازاں ڈاکٹر عبدالسلام اس وقت کے وزیر اعظم میر ذوالفقار علی بھٹو بلوانے پر پاکستان منتقل ہوئے ،7ستمبر1974ءمیں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردےدیا۔ جس پرڈاکٹر عبدالسلام نے قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے استعفا دے دیااوراور 1984ءمیں صدر جنرل ضاءالحق کی جانب سے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے اجراءپر سخت جزبز ہوئے۔ انہوں نے صدر جنرل ضاءالحق سے آرڈیننس واپس لے نے کے لئے کہا مگر کامیابی نہیں ہوئی اور پھر امریکا بیرون ملک چلا گیا اوراس کے بعدپاکستان سے دشمنی ان کا اور ان کے ساتھیوں کا مقصد بن گئی۔ 

منصور اعجاز بظاہر تو اپنے آپ کو پاکستان کا ہمدرد ظاہر کرتا ہے لیکن عملاً وہ پاکستان سے دشمنی کی حد تک نفرت کرتا ہے اور ہر اس کوشش اور سازش کا حصہ بننے پر آمادہ ہوجاتا ہے جو پاکستان یا مسلمانوںکے خلاف ہو۔ منصور اعجاز نے سوڈان سے شیخ اسامہ بن لادن کی بے دخلی اور افغانستان میںان کی آمد کے سلسلے میں بھی امریکی ایجنٹ کا کردار اداکیا جبکہ سابق عراقی صدر صدام حسین کا تعلق القاعدہ سے جوڑ کر ان کے خلاف مہم جوئی میں بھی پیش پیش رہا۔ منصور اعجاز ہمیشہ امریکی مفادات کا نہ صرف تحفظ کرتے رہا بلکہ ان مفادات کی تکمیل کےلئے وہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار رہتاہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے یکم اور دو مئی 2011ءکے درمیان ایبٹ آباد میں امریکی دہشت گردی کے بعد پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے فوکس نیوز میں واضح طور پر کہا تھا کہ امریکی حکومت کو اپنی مرضی کے مطابق سخت کارروائی کرنی چاہئے اور اس طرح کے اور بھی کئی لوگ یہاں پر چھپے ہوں گے، ان(پاکستانیوں) پر اعتبار نہ کیا جائے۔ اس تجزیے میں پاکستان دشمنی کی بدبو آرہی تھی۔ 

منصور اعجاز کے ایک بلیک بیری پیغام کے مطابق 1996ءمیں بےنظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے میں ان کا کردار رہا ہے، کیونکہ وہ 1995ء میں بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میںاسرائیل کو تسلیم کرانے کے لئے کافی سرگرم رہے اور ناکامی پر سازش پر اتر آئے۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ایک مرتبہ پھراسرائیل کو تسلیم کرانے کے لئے کافی سرگرم ہوگئے اور پیپلزپارٹی والے دعویٰ کرتے ہیںکہ 10اکتوبر1999ءکو لیگی رہنماءاور اس وقت کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز کی رہائش گاہ پر لیگیوں سے ملاقات بھی کی جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی جبکہ سرتاج عزیز اس ملاقات سے انکاری ہیں تاہم ستمبر1999ءمیں دورہ امریکا کے موقع پر ایک ملاقات کی تصدیق کر تے ہیں۔ منصور اعجاز کے دعوے کے مطابق وہ حسین حقانی کے ساتھ ملکر پاکستانی ایٹم بم کے حوالے مشترکہ مضامین بھی لکھ چکے ہیں۔ 

ایک مضمون میں تو پاکستانی ایٹم کے حوالے سے زہر اگلا گیا ہے۔اس مضمون کو منصور اعجاز نے حسین حقانی کے ساتھ پرانے تعلقات کے ثبوت کے طور پر عدالت میں جمع بھی کرایا ہے۔ منصور اعجاز اپنے آپ کو معروف افریقی رہنما نیلسن منڈیلا کا مشیر بھی ظاہر کرتے رہے ہیں تاہم اس سب کے باوجود منصور اعجاز کو نہ صرف پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک بلکہ امریکا میں بھی پراسرار اور مشکوک سمجھا جاتا ہے تاہم امریکی ادارے بھی منصور اعجاز کو اسی وقت استعمال کرتے ہیں جب مسلمانوں یا پاکستان کے خلاف کوئی سازش تیار کرنی ہو۔

منصور اعجاز کو جاننے والوں کا کہنا ہے کہ یہ شخص انتہائی چالاک اور خطرناک ہے۔ اپنے شکار کو جال میں پھنسانے کےلئے نت نئے حربے استعمال کرتا ہے اورجب اپنا مطلب اور مفاد پورا ہو جاتاہے تواستعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتا ہے۔ اس کے سامنے دوستی اور دشمنی کا پیمانہ ذاتی مفا اور نفرت ہے۔ منصور اعجاز کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ فلسطین کے حوالے سے بھی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتارہاہے ہیں، لیکن شاید اس بات کا علم بہت کم لوگوں کو ہوگا کہ منصور اعجاز آج بھی اپنی اسرائیلی بیوی کے ساتھ مناکو میں رہ رہا ہے جس کی تصدیق حسین حقانی نے 3 دسمبر 2011ءکو ایک ٹی وی پروگرام میں بھی کی۔ منصور اعجاز کا کردار صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے2001ءسے2002ءتک تنازع کشمیر میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کے نام پر کشمیریوں کو تقسیم کرنے کی سازش کی لیکن یہ سازش جلد ہی ناکام سے ہوگئی۔ اس نے اپنے آپ کو امریکی صدر بل کلنٹن کے بااعتماد ساتھی کے طور پر پیش کیا اور بھارتی حکومت کو اپنے جال میں اس طرح پھنسایا کہ انہیں ویزے کے بغیر دہلی اور سری نگر کے سفر کی اجازت مل گئی جس کو منصور اعجاز مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے منصوبے کا حصہ قرار دے رہے ہیں،اس کی تصدیق 28اکتوبر2011ءکو حسین حقانی سے بلیک بیری پیغام میں کی۔

اپنے کشمیر النسل ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نومبر2000ءمیں بھارت کے دارالحکومت دہلی کے ایک بڑے ہوٹل میںکشمیر کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کرنابتایا گیا لیکن اس کانفرنس میں منصور اعجاز الٹا مسلمانوں اور عربوںپر برس پڑے اور دل کھول کر مسلمانوں اور عربوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی جس پر بیشتر مسلمان بالخصوص کشمیری رہنما شدید ناراض ہوئے۔ معروف کشمیری رہنما یاسین ملک نے منصور اعجاز کے خیالات پر شدید افسوس اور ناراضگی کا اظہار کیا جس پر منصور اعجاز نے نہ صرف ان سے معافی مانگی بلکہ انہیں دعوت دے کر اپنے کمرے میں بلایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سازشی نے اس موقع کو بھی اپنے مفاد میں اور کشمیریوںکے خلاف استعمال کیا۔ 

یاسین ملک کی آمد سے قبل اس کمرے میں ایک فرد موجود تھا۔ یہ فردبھارتی خفیہ ایجنسی ”ریسرچ اینڈانالسس ونگ(را)“امور کشمیر کا انچارج چندر دیو سہائے تھا جس کو یاسین ملک نہیں جانتے تھے۔ مختصر گفتگو کے بعدیاسین ملک تو چلے گئے لیکن اس کے بعد منصور اعجاز نے یاسین ملک اور را کے سربراہ کی ملاقات کی خبر افشاکی جس سے یاسین ملک کی شخصیت اور ان کی جدوجہد کو سخت دھچکا لگا۔ لبریشن فرنٹ کے سربراہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ منصور اعجاز کے کمرے میں ایک شخص موجود تھا جسے وہ نہیں جانتے تھے اور نہ ہی اس کا تعارف کرایا گیا،ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ اگر” را“ کے سربراہ سے میری ملاقات کی تصدیق ہوجائے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔

دراصل مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف سازش منصور اعجازکا پہلا اور آخری مقصد رہا ہے،جس کی کامیابی کے لیے وہ ہر عمل کر گزرنے کے لیے ہمہ وقت تیا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہائٹ ہاﺅس اور اعلیٰ امریکی حکام تک رسائی کے لئے منصور اعجاز نے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جیمزوزلے کا بھرپور سہارا لیا،اور انہیں شیشے میں اتار لیا، یہ دونوں کاروبار میں شرکت دار بھی تھے۔ سی آئی اے کے یہ سابق ڈائریکٹرمسلمان نظریات کے سخت مخالف اور کٹر اسرائیل نواز سمجھے جاتے ہیں۔ عہدے سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے تجزیوں، مضامین اور دیگر ذرائع سے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا، اور ظاہر ہے کہ یہ صاحب منصور اعجاز کے مقاصد کے حصول میں اس کے بڑے ممدومعاون ہوسکتے تھے، جبکہ اسلام دشمنی اور اسرائیل نوازی کے حوالے سے جیمزوزلے کا پورا رنگ منصور اعجاز میں تھا۔

اپنی کشمیریت کو استعمال کرتے ہوئے نومبر2000ءکی کشمیر کانفرنس میں منصور اعجاز نے دعویٰ کیا کہ وہ تنازع کشمیر کے حل کے لیے روڈمیپ تیار کررہے ہیں جبکہ اس سے قبل جولائی2000ءمیں ہونے والی جنگ کو بھی منصور اعجاز اپنا کارنامہ بتاتے ہیں۔مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق منصور اعجاز نے 2001ءمیں کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کےلئے منصوبہ بھارت کو پیش کیا، اس زمانے میں بھارت میں ”این ڈی اے“ کی حکومت تھی اور اٹل بہاری واجپائی بھارتی وزیر اعظم تھے جو شدید مسلم مخالف ہونے کے باوجود کشمیر کے حوالے سے منصور اعجاز کے منصوبے کے حامی نظر آئے ۔منصور اعجاز کے روڈ میپ کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا تھا۔پہلا حصہ جموں ولداخ جوبھارت کو ملناتھا۔دوسرا حصہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جو بعض ترامیم کے ساتھ پاکستان کو ملنے تھے جبکہ تیسرا حصہ وادی کا تھا جس کو ایک خود مختار الگ ریاست کے طور پر پیش کیا گیا،اس منصوبے میں بھارت فائدے میں تھا کیونکہ اس کا مقصد پورا ہو رہاتھا یہی وجہ ہے ثالثی قبول نہ کرنے کے دعویدار بھارت نے بھی اپنا فائدہ دیکھ کرامریکی صدر کلنٹن کے اس رفیق خاص پاکستان نژاد تاجر کے منصوبے اور ثالثی کو قبول کیا ۔ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق منصور اعجازنے اپنے پاکستان اور کشمیر دشمن منصوبے کی تکمیل کے لئے مجاہدین کشمیر کو استعمال کرنے کی کوشش کی اور یک طرفہ جنگ بندی ایک فارمولا پیش کیا جس میں مسٹر اعجاز کو”را“ انچارج برائے امور کشمیر چندر دیو سہائے“ کی حمایت بھی حاصل تھی اور تمام کام ان کی مشاورت سے ہورہے تھے۔ 

منصوبے پر عمل کے لئے کشمیری مجاہدین کی سب سے مضبوط اور منظم تنظیم حزب المجاہدین کے چیف آپریشن کمانڈر عبدالمجید ڈارکا انتخاب کیا گیاجن کو پہلے آزاد کشمیر سے غائب کروایا۔ پھر کراچی سے دبئی وہاں سے دہلی پھر اچانک سری نگر پہنچا کر اپنی ہائی کمان کی مشاورت کے بغیر یک طرفہ طور پر مشروط جنگ بندی کا اعلان کروایا گیا۔ اس جنگ بندی نے کشمیر میں آزادی کی جہدوجہد کے پیٹھ میںچھرے کا کام کیا اور اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں مجاہدین کے اندر بڑے پیمانے پر اختلافات پیدا نہ ہوجائیں تاہم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین جیسے دور اندیش اور باصلاحیت قائد اور دیگر مجاہدین کی موقع شناسی نے کسی بڑے سانحہ سے قبل ہی صورتحال کو کنٹرول کرلیا لیکن اس کا اتنا خطرناک اثر ہوا کہ کئی لوگ مجاہدین کی سرگرمیوں سے بددل ہو گئے اور انہوں نے کشمیر کے اندر عسکری جدوجہد کی بجائے سیاسی کا راستہ اختیار کیا۔

اگرچہ یہ جنگ بندی محدود وقت تک ہی برقرار رہ سکی لیکن کشمیر کے حوالے سے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی بعد ازاں سید صلاح الدین نے جنگ بندی ختم کردی لیکن منصور اعجاز کے مطابق وہ اس کو برقرار رکھنے کے لئے متعدد مرتبہ سید صلاح الدین سے ملاقات بھی کرچکے ہیں جبکہ سید صلاح الدین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دو مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی ہے، ایک اس وقت جب وہ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان ایک روز قبل ہی کرچکے تھے۔ منصور اعجازمبینہ طور پر آئی ایس آئی کے ذمہ دار خالد خواجہ کے ہمراہ ملاقات کے لئے آئے اور ان کی خواہش تھی کہ جنگ بندی کا خاتمہ نہ کیا جائے۔ جبکہ دوسری مرتبہ منصور اعجاز اپنی والدہ لبنٰی کے ہمراہ مظفر آباد میں ملنے آئے منصور اعجاز اور ان کی ماںکوشش تھی کہ جنگ بندی ختم نہ کی جائے لیکن ایسا کرنے سے میں نے انکار کیا۔ انہوں نے جنگ بندی نہ ختم کرنے کےلئے لالچ دیا اور کہا کہ امریکا اس حوالے سے آپ کو بڑا فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اور امریکا کی جانب سے ملنے والا اقتصادی فائدہ کشمیریوں کی فلاح وبہبود کےلئے آپ کی ہی مرضی سے استعمال ہوگااور امریکی صدر بل کلنٹن سے بہتر تعلقات کے ثبوت کے طور پر جیب سے ایک تصویر نکا ل کردکھائی جس میں وہ امریکی صدر کے ایلخانہ کے ہمراہ تھے ،اور یہ بات کسی حد تک درست کیونکہ امریکی صدر بل کلنٹن کے دور میں مصور منصور اعجاز کی والدہ لبنٰی کو وائٹ ہاﺅس کی بااثر خاتون قراردیا جاتاہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن کی سیکڑیٹری کے انتخات کے لئے لبنٰی سمیت 3خواتین کو انٹرویوکی ذمہ داری سونپی گئی، اس انٹرویو میں لبنٰی نے” مونیکا لوینسکی“کا انتخاب کیاجبکہ پینل میں شامل دو خواتین کی مخالفت کے باوجود” مونیکا لوینسکی“ کا انتخاب کیا گیا،اس کے بل کلنٹن کے انجام بد سے پوری دنیا واقف ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ بیٹے کی طرح ماں بھی سید صلاح الدین کو لالچ کو قبول کرنے پر زور دے رہی تھیں۔ سید صلاح الدین کے مطابق انہوںنے اصرار کیا کہ جنگ بندی کو جاری رکھیں لیکن ہم نے واضح کردیا کہ ہندوستان کی طرف سے اس جنگ بندی کی شرائط پوری کی گئی اور نہ ہی مثبت ردعمل آیا لہٰذا اب جنگ بندی کا خاتمہ ضروری ہے لیکن منصور اعجا زپھر بھی اصرار کرتا رہا اور مجبوراً مجھے سخت لہجہ اختیار کرنا پڑا کہ اب اگر آپ نے مزید بات کی تو حالات کی سنگینی کے ذمہ دار آپ خود ہوںگے۔اس کے بعد اس شخص نے پھر کبھی ملنے کی کوشش نہےں کی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سید صلاح الدین دانشمندی کا ثبوت نہ دیتے تو کشمیر کاز کو ناتلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔

دراصل منصور اعجاز کا روڈ میپ (کشمیر امن منصوبہ) خطے میں ایک نئے اسرائیل کے قےام کا منصوبہ تھا، ان کے نسلی اور نظریاتی طورپر روحانی آباءگزشتہ ایک صدی سے اس کے لئے کوشاں ہیں۔ مرزا بشیر الدین اور دیگر کے کردار اور سرگرمیوں کی تاریخ گواہ ہے۔ یہ گروہ وادی کشمیر پر عالمی قوتوں کی مدد سے اس طرح قابض ہونا چاہ رہاتھا جس طرح یہودیوں نے عالمی سامراج کی مدد سے فلسطین پر قبضہ کیا۔ کشمیر پر قبضے کی پہلی کوشش مرزا بشیر الدین نے اس وقت کی تھی جب25جولائی1931ءکو انہیں کشمیر کی تاریخ کی پہلی کشمیر کمیٹی”آل انڈیاکشمیر کمیٹی“ کا سربراہ بنایا گیا جس کی آڑ میں مرزا بشیر نے قادیانیت کی تبلیغ شروع کردی اور مسلمان مجلس احرا ر کے پلیٹ فارم سے مولانا سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی قیادت میںمتحرک ہوئے اور1931ءمیں کشمیر چلو کی تحریک شروع کی جس کے شدید دباﺅ کی وجہ سے 7مئی 1933ءکو مرزا بشیر الدین کو کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونا پڑا اور علامہ محمد اقبال کمیٹی کے سربراہ بنے۔ منصور اعجاز ہو یا مرزا منصور آج بھی کشمیر پر ان کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ 

1993ءاور 1996ءمیں بھی منصور اعجاز کا نام سنا گیا، کہا جاتا ہے کہ 1993 ءمیں نواز شریف کو بھی منصور اعجاز نے اپنے جال مےں پھنسانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے، 1996ءمےں بےنظیر بھٹو کی حکومت گرانے میں اس شخص کا کردار بھی تھا جس کی اس نے خود تصدیق کی ہے۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں بھی اس شخص نے سازش کی لیکن اس بار بھی کامیابی نہ ہوئی۔ منصور اعجاز کا دعویٰ ہے کہ1999ءمیں کرگل کے واقعے کے بعد اس نے اپنا بھرپور کردار ادا کیاہے، جو ایک مفروضہ ہے۔ کرگل کی جنگ بندی کی حقیقت کچھ اور ہے جس سے میاں نواز شریف سمیت کئی لوگ واقف ہیں اور معلوم نہیں کہ خاموشی کیوں اختیار کی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی غفلت سے اگلے محاذوں پر لڑنے والے فوجی شدید مشکلات اور مسائل سے دوچارتھے کہ جون1999ءمیں محاذ جنگ سے ہی کسی اہم ذمہ دار نے اس وقت کی حکومت کے نام خط لکھا اور کہا کہ” مکے لہرانے اور اعلانات کی بجائے کوئی عملی اقدام کریں ورنہ آئندہ چند روز تمہارے لئے بہت مشکل ہوں گے۔ دشمن آگے بڑھ رہاہے اس کو روکنے کا انتظام کرو، اگر ملک کی سرحدوں کو بچانا چاہتے ہو تو کوئی بچت کی راہ نکالو“۔ 

حقیقت کا انکشاف ہوتے ہی اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور حکومت کے ہوش ٹھکانے آگئے اور مجبوراً نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو صدر کلنٹن سے مدد لےنے کے لےے واشنگٹن جانا پڑا۔ کاش اس واقعے کے بعد نواز شریف انکوائری کمیشن قائم کرتے اور حقیقت قوم کے سامنے لاتے کہ وطن کے ساتھ غداری کس نے اورکیوںکی ؟کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ منصور اعجاز نے 9/11سے قبل اور بعد میں طالبان بالخصوص ملا عمر سے رابطے کی کوشش کی مگراس مرد درویش کی داشمندی اور دید بینائی کی وجہ سے منصور اعجاز کو کامیابی نہ ہوسکی اس حوالے سے رابطہ کار کے طور پر خالد خواجہ نام بھی لیا جاتا ہے ،جبکہ اسلام آباد میں ایک کانفرنس کی باز گشت بھی سنائی دیتی ہے جبکہ خالد خواجہ کی موت کا ایک بڑا سبب بھی منصور اعجاز سے مبینہ روابط بتائے جاتے ہیں ۔خالد خواجہ اور منصور اعجاز کی قربت کی ایک بڑی وجہ دونوں کا کشمیر النسل(وادی سے تعلق تھا) ہونابھی بتایا جاتاہے ۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نژاد ہوتے ہوئے بھی منصور اعجاز آخر پاکستان دشمن ہر منصوبے میں ہراول دستے کا کردار اد کرنے کے لئے فوری تیار کیوں ہوتا ہے؟اس کے اسباب اور مقاصد کیا ہیں؟ منصور اعجاز پاکستان اور مسلمانوں میں عدم استحکام کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟ ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب ہے کہ منصور اعجاز اور اس قبیل کے لوگوں کو 1974ءمیں پاکستانی آئین میں کی گئی ترمیم” جس کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا“اور1984ءکا امتناع قادیانیت آرڈیننس کا اجراءسخت ناپسند ہے۔ منصور اعجاز کا بھی اسی گروہ سے تعلق ہے۔ ان کے والد ڈاکٹر مجدد احمد اعجاز پاکستان اور امریکا میں اپنے گروہ کے لیے کافی سرگرم رہے جبکہ مصور منصور اعجاز کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کے قریبی عزیز اور قادیانی گروہ کے ابتدائی 313افراد میں سے ایک تھے۔

اس کے روحانی پیشوا کی آخری خواہش اکھنڈ بھارت تھی جس کی تکمیل کے لئے منصور اعجاز ہو یا مرزا منصور سب کوشاں ہیں۔ مرزا طاہر نے 1984ءمیں امتناع قادیانیت کے صدارتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد واضح طور پر کہا تھا کہ احمدیوں کی بددعا سے پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہوگا منصور اعجاز اور ان کے دیگر ساتھی اس بددعا کی قبولیت کے لےے کوشاں ہیں اور اسی بنیاد پراب وہ اپنی نفرت کے اظہار کےلئے پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور آئینی ترمیم میں بنیادی کردار ادا کرنے پرعلمائ، عا م مسلمانوں، مسلح افواج، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل محمد ضیاءالحق اور پیپلز پارٹی سے انتہائی نفرت مذہبی فریضے کے طور پر کرتے ہیں۔ منصور اعجاز امریکا بالخصوص امریکی ایوانوں میں اپنے آپ کو ایک مسلمان کے طور پر پیش کرتا ہے مگر اپنی تما م توانائیاں ہمیشہ امریکا، اسرائیل، بھارت اور ہر اسلام اور پاکستان دشمن کے مفاد کے لئے صرف کرتا ہے۔ امریکی اداروں اور اعلیٰ افراد تک رسائی کی وجہ سے یہ شخص لوگوں اور حکومتوں کو بلیک میل کرنے میں بڑی مہارت رکھتا ہے اور شکار کو مہارت کے ساتھ غیر محسوس طریقے سے اپنے جال میں پھنساتا ہے اور شاید کچھ ایسا ہی اس بار بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ہوا ہے۔

میمو گیٹ اسکینڈل کا دوسرا کردار حسین حقانی ہیں جو امریکا میں پاکستانی سفیر تھے۔ کراچی کے علاقے ملیر میں رہنے والا یہ شخص 1956ءمیں ایک متوسط اور دینی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا، پہلے اسلامی جمعیت طلبہ کے اعلیٰ عہدے تک پہنچے۔ پھر جامعہ کراچی میں طلبہ یونین کے صدر بنے بعد ازاں 1988ءمیں آئی جے آئی کے قیام کے ساتھ ہی اس سے منسلک ہوئے، 1990ءمیں نواز شریف کے میڈیا کوآرڈینیٹر اور بعد ازاں سری لنکا میں سفیر کے طور پر کام کرتے رہے،پھر 1993ءمیںاچانک بے نظیر بھٹوکے قریب ہوئے اور ترجمانی کا کردار اداکیا،اسی دوران صدر آصف علی زرداری کی قربت حاصل کی ۔ان کا شمار پاک فوج کے سخت ناقدین میں ہوتا ہے اس حوالے سے ان کی کتاب گواہ ہے۔ حسین حقانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی بہت تیزی کے ساتھ کسی اعلیٰ منزل تک پہنچنے کےلئے کچھ بھی کر گزرنے والی شخصیت ہیں۔ شاید ان کے انہی جذبات کا فائدہ منصور اعجاز نے اٹھایا اور انہیں جال میں پھنسادیا اور اب جان پر بن آئی ہے۔ 

میمو گیٹ کا تیسرا کردار 68 سالہ سابق امریکی جنرل جیمز ایل جونز ہے جو صدر اوباما کے قومی سلامتی کے سابق سینئر مشیر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صدر اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جیمز ایل جونز کا انتخاب اس لئے کیا تھا کہ اوباما کے نام کے ساتھ حسین کا لفظ تھا جس سے مسلمانوں کی طرف نسبت جاتی تھی اور اس حوالے سے کسی بھی ردعمل سے بچنے کےلئے بارک اوباما نے اپنے قرب وجوار اور اہم عہدوں پران لوگوں کو تعینات کیا جن کو اسرائیل نواز یا مسلمان مخالف تصور کیا جاتا تھا۔ جیمز ایل جونز کا شمار بھی انہی میں ہوتا ہے اور وہ وائٹ ہاﺅس میں بااثر بھی تصور کئے جاتے ہیں ، اس لئے ڈاکیے کے طور پر منصور اعجاز نے جیمزایل جونز کا استعمال کیا۔ چوتھا کردار امریکی فوج کے میمو لکھنے کے وقت کے سربراہ65 سالہ ایڈ مرل مائیک مولن ہےں۔ ایڈ مرل مائیک مولن بھی پاکستان اور مسلمان مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ بلکہ ان کی پاکستان دشمنی سے کون واقف نہیں، انہوں نے تو جاتے جاتے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل حال ہی میں پاکستان پر سنگین الزام تراشی کی اور دونوں ملکوں کے مابین خلیج کو مزید وسیع کردیا۔ ان کا شمار بھی اسرائیل نوازوں میں ہوتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مبینہ طور پر حسین حقانی نے آخر اس میمو کےلئے مصور منصور اعجاز کا ہی انتخاب کیوں کیا؟۔ دراصل جب یہ شخص سامنے آتا ہے تو اپنے آپ کو پاکستانی کہلاتا اور ہمدردی جتاتا ہے، اپنے مذہبی پیشوا کی طرح بہت جھوٹ بولتا ہے اور اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے اس میں کچھ سچ کی آمےزش بھی کرتا ہے، اس کی جھوٹ آرائی کی بھی کوئی انتہا نہیں ہے۔اس کی گفتگو سے تو بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا کا اصل ڈان یہی شخص ہے۔ اسی مہارت کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو اپنے جال میں پھنسانے میں بڑی مہارت رکھتا ہے اور کوئی بھی آدمی پھنس سکتا ہے۔لگتا یہی ہے کہ اس بار بھی منصور اعجاز نے اپنی پرانی دشمنی نکالنے کےلئے موجودہ حکومت کے کسی ذمہ دار کو جال میں پھنسالیا اوراب پیپلز پارٹی کےلئے گلے کا پھندا بن چکا ہے۔صدر زرداری کی بیماری کی اصل وجہ بھی میمو گیٹ اسکینڈل کو ہی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ بات ان کی ذات تک جا پہنچی ہے اور عدالت میں زیر سماعت ہے تاہم یہ بات ناقابل تردید ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے جس کا بھر پور فائدہ منصور اعجاز نے اٹھایا اور ”دال میںکالے“کا کہیں نہ کہیں ایبٹ آباد میں امریکی حملے سے ضرور تعلق ہے جس کے بارے میں منصور اعجاز کا دعویٰ ہے کہ حسین حقانی اور صدر زرداری کو پہلے سے ہی علم تھا۔حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“اور خوف نے میمو لکھنے پر مجبور کیا ۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر منصور اعجاز نے اس خفیہ دستاویز کے حوالے سے 10اکتوبر2011ءکو مضمون کیوں لکھا ؟ دراصل اس سازشی کا خیال تھا کہ میمو کے مائیک مولن تک پہنچنے کے بعد امریکی فوج کی طرف سے پاکستان کے خلاف سخت ردعمل ہوگا، لیکن مکمل خاموشی رہی اور مائیک مولن پاکستان کے خلاف ایک نفرت آمیز بیان کے ساتھ ہی فوج سے ریٹائر ہوگئے اور میمو اپنی جگہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ثابت ہوا۔ اس ساری صورتحال میں منصور اعجاز اور ان کے ساتھیوں کے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے جےسے مقاصد پورے نہےں ہوئے۔ اب اس کے لےے ایک اور راستہ منصور اعجاز نے تلاش کیا اور میمو گیٹ کا انکشاف اپنے مضمون کے ذریعے کیا اور بعد ازاں اس کے قسط وار پیغامات کو ظاہر کردیا اور ہوا پھر وہی کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اب ایک طرف حکومت اور دوسری طرف قومی سلامتی کے ادارے اور تیسری طرف عدلیہ نظر آتی ہے۔اور یہ ادارے باہم دست و گریباں دکھائی دیتے ہیں آخر الذکر دونوں اداروں کی مجبوری یہ ہے کہ اس میمو میں جو نکات اور یقین دہانیاں موجود ہیں وہ انتہائی مہلک اور پاکستان سے غداری ہیں۔ 

یہ تو عدالت ہی فیصلہ کرے گی کہ اس کے پیچھے کون ہے اور ےہ کام کس نے کرایا لیکن اس حد تک منصور اعجاز اپنی سازش میں کامیاب ہوا کہ اس نے پاکستانیوں کو دست وگریباں کردیا۔ اس ایک تیر سے اس نے تین شکار کئے۔ ایک طرف قومی اداروں کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا کردی دوسری طرف پیپلز پارٹی سے اپنی دشمنی نکال لی اور تیسری طرف دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ پاکستان کے اعلیٰ حکام اپنے اقتدار یا مفاد کےلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں اور ان کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔منصوراعجاز کو جاننے والے کہتے ہیں کہ یہ شخص اب بھی خاموش نہیں رہے گا وقتاً فوقتاًنئے انکشافات کے نام پر مسلمانوں اور پاکستان کوغیر مستحکم کرنے کی کوشش اور لوہا گرم دیکھ کر وار کا سلسلہ جاری رکھے گا،کیونکہ اس کو بعض عالمی قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔

بعض مبصرین 26 نومبر 2011ءکو مہمند ایجنسی کی چیک پوسٹ سلالہ پر امریکی اور نیٹو حملے کو بھی اسی میمو سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ان حملوں کے ذریعے اپنے بعض دوستوں کو دباﺅ کے ذریعے بچانا چاہتے ہیں لیکن شاید قومی سلامتی کے اداروںنے بھی اب تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کےلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس مشکل گھڑی مےں پوری قوم قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر فوجی سربراہ کا ردعمل قومی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ اگرچہ حکومت کے بعض اقدام بھی خوش آئند ہیں لیکن اس کے پیچھے دباﺅ نظر آتا ہے مگر حکومت کی تباہی کےلئے کسی باہر کے منصور اعجاز کی ضرورت نہیں ان کے پاس اپنا بابر اعوان ہی کافی ہے۔ حکومت کی جانب سے بون کانفرنس کا بائیکاٹ، شمسی ایئر بیس خالی اور نیٹو سپلائی بند کرانے اقدام انتہائی مثبت ہیں۔ ان کو تسلسل کے ساتھ اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک ہماری قومی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاتی۔

افغان صدر حامد کرزئی کا یہ دعویٰ ہے کہ بون کانفرنس میں پاکستان کی شرکت سے کوئی فرق نہےں پڑا۔ یہ ان کی خام خیالی ہے کہ پاکستان اس پورے تنازع کا بنیادی فرق ہے۔ پاکستان کی مرضی کے مطابق افغانستان میں ترقی ہوسکتی ہے اور نہ ہی امن کی خواہش پوری ہوگی اور نہ ہی نیٹو اور امریکی پاکستان کی مدد کے بغیرصحیح سلامت نکل سکتے ہیں۔ اس لئے کہ افغانوں کی اکثریت آج بھی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی ہے اور وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ طالبان اور دیگر جہادی گروپوں کا افغانستان کے 70 فیصد حصے پر عملاً کلی کنٹرول ہے۔ 15 سے20 فیصد حصے پر جزوی اور افغانستان کاصرف 10فیصد علاقہ ایسا ہے جہاں پر جہادی قوتوں کے اثرات کم ہیں۔ اس کا واضح ثبوت بون کانفرنس کا انعقاد افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بجائے 2002ءکی طرح اس بار بھی جرمنی کے شہر بون میں ہونا ہے۔ حالانکہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد افغانستان کی تعمیر وترقی اور 2014ءتک نیٹو کا انخلاءتھا۔ دنیا کے100 سے زائد ممالک اس کانفرنس میں شریک ہوئے لیکن اکثر مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ پاکستان کی شرکت کے بغیر بون کانفرنس بے مقصد رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکومت منصور اعجاز کے جال سے کس طرح نکلتی اور پاکستان امریکا اور نیٹو کے سامنے اپنے دباﺅ کو کس طرح برقرار رکھتا ہے۔ اس ضمن میں پوری قوم کو متحد اور منظم ہو کر یک جاں ودوقالب ہونے کا ثبوت دینا ہوگا اسی میں ہم سب کی بقاءہے۔